Baaghi TV


پاکستان کو 5 سال میں 123 ارب ڈالر درکار ہوں گے

‎پاکستان کی معیشت کے حوالے سے سامنے آنے والی تازہ دستاویزات نے آئندہ برسوں کے مالی چیلنجز کی نشاندہی کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اگلے پانچ سال کے دوران پاکستان کو اپنی بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً 123 ارب ڈالر درکار ہوں گے، جس کے باعث بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پر انحصار ختم ہونے کے امکانات محدود دکھائی دے رہے ہیں۔
‎ذرائع کے مطابق پاکستان کا موجودہ 7 ارب ڈالر کا آئی ایم ایف پروگرام اگلے سال ستمبر یا اکتوبر میں مکمل ہونے جا رہا ہے۔ تاہم قرضوں کی واپسی، جاری مالی ضروریات اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کے باعث مستقبل میں پاکستان کو دوبارہ آئی ایم ایف یا دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے۔
‎دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026-27 میں پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات کا تخمینہ 21.2 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس کے بعد مالی سال 2027-28 میں یہ ضروریات بڑھ کر 29 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جو حالیہ برسوں کی بلند ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔
‎مالی سال 2028-29 کے دوران بیرونی مالی ضروریات تقریباً 23 ارب 59 کروڑ ڈالر رہنے کا امکان ہے، جبکہ 2029-30 میں یہ ضرورت 22 ارب ڈالر تک محدود رہ سکتی ہے۔ اس کے باوجود 2030-31 میں بیرونی فنانسنگ کی ضروریات دوبارہ بڑھ کر 26 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
‎رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 3.6 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق اگر برآمدات، ترسیلات زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
‎اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو طویل المدتی بنیادوں پر آئی ایم ایف کے پروگراموں سے نکلنے کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ، صنعتی ترقی، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق صرف قرضوں کے ذریعے معیشت کو سہارا دینا مستقل حل نہیں ہو سکتا۔
‎ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر حکومت معاشی اصلاحات کے عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھتی ہے اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بناتی ہے تو آنے والے برسوں میں بیرونی مالی انحصار میں کمی لانا ممکن ہو سکتا ہے۔

More posts