پاکستان نے گلگت بلتستان کے انتخابات سے متعلق بھارت کے حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے اس قسم کے دعوے زمینی حقائق کو مسخ کرنے اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش ہیں۔
اسلام آباد سے جاری بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت جھوٹے بیانیے اور پروپیگنڈے کے فروغ کے حوالے سے عالمی سطح پر شہرت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان سے متعلق بھارتی مؤقف نہ صرف تاریخی حقائق سے متصادم ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بھی خلاف ہے۔
ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور یہ مسئلہ کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور منصفانہ حل صرف اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق یعنی آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنی سیاسی تقدیر کا فیصلہ خود کر سکیں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل حمایت جاری رکھے گا۔
بیان میں بھارتی زیر انتظام کشمیر کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں، جبکہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کو خصوصی قوانین کے تحت حاصل استثنیٰ عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کے لیے باعث تشویش ہے۔
دفتر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ بھارت 5 اگست 2019 کے اقدامات واپس لے اور مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی مبصرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد میڈیا کو رسائی فراہم کرے تاکہ زمینی حقائق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔
پاکستان نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
پاکستان نے گلگت بلتستان انتخابات پر بھارتی بیان مسترد کر دیا
