ضلع ڈیرہ غازی خان کے علاقے تونسہ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی کے 14 سے 15 مسلح دہشتگرد بارڈر ملٹری پولیس (BMP) تھانہ چتروٹہ کی حدود میں واقع کچی لکھانی کے علاقے کی ایک مسجد میں موجود ہیں، جہاں وہ مقامی آبادی کے ساتھ ملاقاتیں اور اجتماعات منعقد کر رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر مقامی لوگوں کو بارڈر ملٹری پولیس میں جاری بھرتی مہم میں شامل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی جانب سے عوامی اعلانات کے ذریعے نوجوانوں کو رضاکارانہ بھرتی سے باز رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے،اور کہا جا رہا ہے کہ علاقے پر ان کا اثر و رسوخ اور انتظامی کنٹرول موجود ہے۔
اطلاعات کے مطابق شدت پسند اپنے خطابات میں مقامی آبادی کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی عوام کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں، تاہم وہ لوگوں کو اپنی تنظیم اور نظریات کی حمایت پر آمادہ کر رہے ہیں۔ ان اجتماعات کے دوران قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا بھی کیا جا رہا ہے، جس سے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سکیورٹی ذرائع صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ حساس مقامات کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
