پیر کی صبح مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی جب ایران اور اسرائیل کے درمیان میزائل حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تیز ہو گیا۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ ’’تمام محاذوں پر وسیع پیمانے کی کارروائیوں‘‘ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جبکہ اسرائیل نے ایران کے مختلف فوجی اور صنعتی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے جواب میں جاری آپریشن محض ایک عارضی ردعمل نہیں بلکہ ’’مسلسل ایک ہفتے تک جاری رہنے والی کارروائیوں‘‘ کا آغاز ہے۔ ایرانی فوجی قیادت نے خبردار کیا کہ آئندہ سات دنوں تک اسرائیل کے خلاف میزائلوں اور ڈرونز کی لہروں میں حملے جاری رہیں گے اور اگر ایرانی سرزمین کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تو اس کا جواب توقعات سے کہیں زیادہ شدید اور تباہ کن ہوگا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کے مطابق ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں فضائیہ نے مغربی اور وسطی ایران میں متعدد فوجی اہداف پر حملے کیے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے اصفہان، کرج، تبریز اور تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی تصدیق کی، تاہم نقصانات کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ان حملوں میں فضا سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائل استعمال کیے۔
اسرائیلی فوج نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ جنوب مغربی ایران کے شہر ماہشہر میں واقع ایک بڑے پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیل کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایران کی عسکری اور لاجسٹک صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا، تاہم ایرانی حکام نے تاحال اس دعوے پر تفصیلی ردعمل نہیں دیا۔
کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب ایران نے رات گئے جنگ بندی کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل پر میزائل حملے کیے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان تمام میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا اور کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ بعد ازاں صبح کے اوقات میں بھی ایران کی جانب سے مزید میزائل داغے گئے، جن کے باعث اسرائیل کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔اسرائیلی فوج نے یہ بھی بتایا کہ یمن سے اسرائیل کی جانب ایک میزائل داغا گیا جسے روکنے کے لیے فضائی دفاعی نظام متحرک کر دیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے کیا گیا، تاہم اس کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایران اور لبنان کے پرچموں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف یکجہتی کا اظہار کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد سخت ردعمل خطے میں ایک وسیع تر محاذ آرائی کا اشارہ دے رہا ہے۔
عالمی منڈیوں پر بھی اس کشیدگی کے اثرات فوری طور پر ظاہر ہوئے ہیں۔ ایشیائی تجارت کے دوران عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2.6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 95.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 2.5 فیصد بڑھ کر 92.75 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان تصادم مزید بڑھا تو توانائی کی عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم کو فوری جوابی کارروائی سے گریز کا مشورہ دیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم اسرائیل نے اس کے باوجود ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے باعث عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو یہ بحران ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
