Baaghi TV

جنگ و جدل کے بجائے ’امن کو ایک اور موقع‘ دیں، شہباز شریف

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے مشرقِ وسطیٰ میں تازہ کشیدہ صورت حال اور تشدد کی نئی لہر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ و جدل کے بجائے ’امن کو ایک اور موقع‘ دیں تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر جاری اپنے ایک اہم اور اسٹرٹیجک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیل اور ایران کا نام لیے بغیر مشرقِ وسطیٰ کی تازہ نازک صورتحال کا احاطہ کیا،وزیراعظم نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ و جدل کے بجائے ’امن کو ایک اور موقع‘ دیں تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں تازہ کشیدگی اور تشدد اس بات کی واضح اور خطرناک یاددہانی ہے کہ ایک ’غیر مستحکم جنگ بندی‘ کتنے سنگین خطرات اور ناقا بلِ برداشت نتائج کا باعث بن سکتی ہے انہوں نے بین الاقوامی برادری کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ عارضی اور کمزور اقدامات مستقل امن کا متبادل نہیں ہو سکتے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور ثالثی کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اس بحران سے لاتعلق نہیں رہ سکتا پاکستان اپنے برادر ممالک اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تنازع کے مستقل، پرامن اور سفارتی حل کے لیے سنجیدہ، تعمیری اور مسلسل کوششیں کر رہا ہے،جب ایک منصفا نہ اور پائیدار حل کے حصول کا مقصد قریب دکھائی دے رہا ہو، تو ایسے نازک وقت میں کشیدگی کا اچانک بڑھ جانا اب تک کی تمام سفارتی کوششوں اور امن کی امیدوں کو یکسر نقصان پہنچا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ حالیہ بحران محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سیکیورٹی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے پاکستا ن روایتی طور پر مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل، خاص طور پر مسئلہ فلسطین کے پائیدار اور دو ریاستی حل کا حامی رہا ہے۔

شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی تمام متعلقہ عالمی اور علاقائی طاقتوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور جاری سفارتی کوششوں کو کامیا ب ہونے کا پورا موقع فراہم کریں تشدد، بارود اور تباہی کے راستے کے بجائے صرف اور صرف ’امن اور سفارت کاری کی راہ‘ اختیار کی جانی چاہیے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ یہی واحد راستہ ہے جو خطے میں حقیقی استحکام اور دیرپا امن کے حصول کی روشن امید فراہم کرتا ہے۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی اور علاقائی امن کے لیے اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ تمام فریقین اپنے اپنے تنازعات کے حل کے لیے میز پر بیٹھیں، مذاکرات کریں اور سفارت کاری کو ہر دوسرے راستے پر ترجیح دیں تاکہ مزید معصوم انسانی جانوں کے ضیاع اور بڑے پیما نے پر ہونے والی مالی و جغرافیائی تباہی کا راستہ روکا جا سکے۔

More posts