کراچی کے ریڈ زون میں واقع سندھ اسمبلی کے قریب موبائل مارکیٹ میں دن دہاڑے ڈکیتی کی بڑی واردات پیش آئی، جہاں مسلح ملزمان لاکھوں روپے مالیت کے موبائل فونز لوٹ کر فرار ہو گئے۔ واقعے نے تاجروں اور شہریوں میں سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق تین موٹر سائیکلوں پر سوار پانچ ملزمان مارکیٹ میں داخل ہوئے اور مختصر وقت میں متعدد دکانوں سے قیمتی موبائل فونز چھین لیے۔ ملزمان واردات کے دوران دو کارٹن اور ایک بیگ بھی اپنے ساتھ لے گئے جن میں بڑی تعداد میں موبائل فون موجود تھے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق واردات میں مجموعی طور پر 55 موبائل فون لوٹے گئے جن کی مالیت لاکھوں روپے بتائی جا رہی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ملزمان منظم انداز میں کارروائی کرتے ہوئے باآسانی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
واقعے کے بعد مارکیٹ کے تاجروں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حساس علاقے اور ریڈ زون کے قریب بھی ایسی وارداتوں کا ہونا سیکیورٹی انتظامات پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے لوٹا گیا سامان برآمد کیا جائے۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو (یا آزاد خان، جیسا کہ رپورٹ میں درج ہے) نے ڈی آئی جی ساؤتھ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے پولیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ واردات میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے۔ تفتیشی حکام کو امید ہے کہ ویڈیو ریکارڈنگ کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری میں پیش رفت ہو سکے گی۔
شہری اور تاجر تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ تجارتی مراکز، خاص طور پر قیمتی الیکٹرانکس کی مارکیٹوں میں سیکیورٹی مزید سخت کی جائے تاکہ اس نوعیت کی وارداتوں کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
سندھ اسمبلی کے قریب موبائل مارکیٹ میں بڑی ڈکیتی، 55 موبائل فون لوٹ لیے گئے
