Baaghi TV

پچھلے 2 سال میں مہنگائی بتدریج کم ہوئی،وزیر خزانہ نے اقتصادی سروے پیش کر دیا

wazeer

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ اقتصادی سروے پورے مالی سال کی کارکردگی بیان کرتا ہے۔

اسلام آباد میں قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا تھا، مون سون کی بارشوں کی وجہ سے معیشت متاثر ہوئی، امریکا کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ سے غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہوئی، اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معشیت نے بہتر کارکردگی دکھائی، حکومت بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی، معاشی ترقی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، توقع تھی رواں مالی سال شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہے گی،عالمی سطح پر غیر یقینی صورتِ حال سے بین الاقوامی معیشتوں کو بھی دھچکا لگا، مشرق وسطیٰ کے بحران کے باوجود معاشی کارکردگی اچھی رہی، پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے اوپر چلا گیا، سیمنٹ سیکٹر میں 10 فیصد اور فرٹیلائزر سیکٹر کی گروتھ 17 فیصد رہی، پیٹرولیم سیکٹر میں 5 فیصد گروتھ ہوئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ فی کس اوسط سالانہ آمدن 1751ڈالر سے بڑھ کر 1901ڈالر ہوگئی، مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال پیدا نہ ہوتی تو جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد سے اوپر جاتی، جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ 72 ملین ڈالرز مثبت رہا، زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی،ڈیری اور لائیو اسٹاک کا زرعی معیشت میں 60 فیصد حصہ ہے، برآمدات میں کمی کی وجہ چاول اور چینی کی برآمدات میں ڈیڑھ ارب ڈالر کمی ہے، فوڈ اور ٹیکسٹائل سمیت 16 شعبوں میں مثبت رجحان رہا، فری لانسرز کی برآمدات 90 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 10 کروڑ ڈالرز ہیں، جون کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر ہو جائیں گے، مینوفیکچرنگ کے 22 شعبوں میں سے 16 شعبوں میں بہتری آئی ہے، اشیاء کی طلب میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا، ڈیجیٹل معیشت کا اس میں بڑا اہم کردار ہے،خدمات کے شعبے میں شرح نمو 4.9 رہی، مالیاتی خسارہ 0.7 فیصد اور پرائمری بیلنس سرپلس ہے، مہنگائی 38 فیصد سے کم ہوئی، مالیاتی سائیڈ پر پاکستان سرپلس رہا اور بہتری دکھائی۔ ترسیلات زر بھی گزشتہ ماہ تاریخی طور پر وصول ہوئیں، وزیرِ اعظم برآمدات کو بڑھانا چاہتے ہیں، ترسیلات زر کا بھی دنیا کی معیشتوں میں بڑا اہم کردار ہے، بیرون ملک پاکستانیوں کے شکر گزار ہیں کہ وہ ترسیلات زر بھیج رہے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ کا مزیدکہنا تھا کہ مالی نظم ضبط کی وجہ سے مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی ہوئی، جولائی تا مارچ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 3.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا، ملک کا مجموعی قرضہ جی ڈی پی کے مقابلے میں کم ہو کر 68.5 فیصد پر آگیا۔جولائی تا مئی اوسطاً مہنگائی کی شرح 6.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، 29 مئی 2026ء تک زرمبادلہ کے ذخائر 17.2 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے، زرمبادلہ کے ذخائر میں سالانہ بنیادوں پر 49 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ ہوا،انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ نمایاں کمی کے بعد محض 252 ملین ڈالر رہ گیا، پاکستان کے پاس 2.75 ماہ کی درآمدات کا احاطہ کرنے کے لیے امپورٹ کور موجود ہے، جولائی تا مئی اوورسیز پاکستانیوں نے 33.9 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر بھجوائیں، اپریل 2026ء میں ایک ماہ کے دوران 4.3 ارب ڈالر کی تاریخی ترسیلات حاصل ہوئیں، آئی ٹی اور ٹیک برآمدات جولائی تا اپریل 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 959 ملین ڈالر رہا، 1 ارب ڈالر کے قریب پہنچ گیا، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں جمع رقم 12.7 ارب ڈالر کی تاریخی سطح کو چھو گئی،رواں سال اب تک ریکارڈ 11 نئی کمپنیوں کی اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ ہوئی، ملک میں 39000 سے زیادہ نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں جو مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے اوپر ہے، نجی شعبے کے قرضوں میں جولائی تا مارچ 934 ارب روپے کا اضافہ دیکھا گیا، زرعی شعبے کے لیے جولائی تا مارچ 2162 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے، غریب خاندانوں کے لیے بی آئی ایس پی کا بجٹ بڑھا کر 722.5 ارب روپے کر دیا گیا، پی آئی اے، ایف ڈبلیو بی ایل اور ڈسکوز سمیت سرکاری اداروں کی نجکاری پر کام تیز کیا گیا، وزارتوں کے انضمام اور پی ڈبلیو ڈی سمیت متعدد محکموں کو بند کرنے کے لیے رائٹ سائزنگ شروع کی گئی۔

وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کے محصولات میں 10.1 فیصد اضافہ ہوا، افراط زر میں گزشتہ 2 سال میں بتدریج کمی ہوئی، ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا، رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ کے دوران ترسیلات زر 33 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، غریب خاندانوں کے لیے بی آئی ایس پی کا بجٹ بڑھا کر 722.5 ارب روپے کر دیا گیا، پچھلے 2 سال میں مہنگائی بتدریج کم ہوئی،فیفا فٹبال ورلڈکپ میں پاکستانی فٹبال استعمال ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایکسپورٹس 3.8 بلین ڈالرز کراس کر چکی ہیں جبکہ 4.5 بلین ڈالرز کی آئی ٹی ایکسپورٹس ہونی ہیں

More posts