مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر حکومت نے احتجاجی مقدمات کے حوالے سے دی گئی سابقہ رعایتیں واپس لیتے ہوئے 177 ایف آئی آرز کو دوبارہ بحال کردیا ہے
حکومتی مؤقف کے مطابق 4 اکتوبر 2025 کے معاہدے کے تحت تمام معاملات کو عملدرآمد کمیٹی کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا، تاہم سڑکوں پر آکر احتجاج، دباؤ ڈالنے اور انتشار پیدا کرنے کی سرگرمیاں معاہدے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد پہلے ختم یا معطل کیے گئے مقدمات کو معاہدے کی شرائط کے مطابق دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اراکین کے خلاف درج ایف آئی آرز بھی بحال کر دی گئی ہیں۔
معتبر سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کر رہی اور نہ ہی مستقبل میں ایسے کسی رابطے کا ارادہ رکھتی ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سابقہ مراعات کو جبر یا دباؤ کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں، جبکہ معطل مقدمات کی بحالی کا عمل جاری ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ قانون کی عملداری اور امن و امان کے قیام کے لیے تمام فیصلے آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔
