Baaghi TV


امریکی حملوں نے جنگ بندی کو بے معنی بنا دیا، ایران

usa

‎ایران نے کہا ہے کہ حالیہ امریکی حملوں نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان قائم عارضی جنگ بندی کو بے معنی اور غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کی تازہ فوجی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور ان کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
‎ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی حملے غیر قانونی اور خطرناک ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان اقدامات کے تمام نتائج کی ذمہ داری امریکہ اور ان تمام فریقوں پر عائد ہوگی جو ان کارروائیوں میں شریک، معاون یا سہولت کار بنیں گے۔
‎ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں ایران کی مسلح افواج نے بھی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان جوابی کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ مزید بڑھ گیا ہے اور جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
‎دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی جنگ بندی کی موجودہ حیثیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ امریکہ کی حالیہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ ان کے مطابق ان حملوں نے جنگ بندی کو عملی طور پر غیر مؤثر بنا دیا ہے۔
‎ایران کی اعلیٰ قیادت کے قریبی فوجی مشیر محسن رضائی نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو ایران کی شرائط تسلیم کرنا ہوں گی، بصورت دیگر وہ دنیا میں اپنی باقی ماندہ ساکھ بھی کھو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے ان شرائط کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
‎سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
‎عالمی برادری کی جانب سے دونوں ممالک پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں تاکہ خطے کو مزید عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔

More posts