قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر اور باہر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ اسلام آباد اور پنجاب پولیس کے ساتھ رینجرز کے اہلکار بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس اور اس کے اطراف میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ غیر ضروری افراد کی آمد و رفت روکنے کے لیے مختلف مقامات پر خاردار تاریں بچھا دی گئی ہیں، جبکہ پارلیمنٹ جانے والے راستوں پر پولیس اہلکاروں کی گشت بھی بڑھا دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہائی الرٹ ہیں اور پارلیمنٹ ہاؤس کے اطراف سیکیورٹی کی کڑی نگرانی جاری ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے بجٹ اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے پیش نظر انتظامیہ نے اضافی حفاظتی اقدامات اختیار کیے ہیں۔پارلیمانی ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس کے دوران ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سارجنٹ ایٹ آرمز کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ ایوان کے نظم و ضبط کو برقرار رکھا جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ بجٹ اجلاس کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں۔
