قومی اسمبلی کا اہم بجٹ اجلاس باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے، جبکہ حکومتی اتحاد کے لیے ایک اہم پیش رفت میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی اجلاس میں شریک ہو گئے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے قبل ازیں بجٹ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی تھیں۔ تاہم حکومتی اور اتحادی جماعتوں کے درمیان رابطوں اور مشاورت کے بعد معاملات طے پا گئے اور بلاول بھٹو اجلاس میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ پہنچ گئے۔
اس سے قبل مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور وفاقی وزراء اسحاق ڈار اور اعظم نذیر تارڑ نے بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی تھی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس ملاقات نے اتحادی جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والی دوریوں کو کم کرنے اور بجٹ سے متعلق تحفظات دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی بجٹ پر بحث، مالی پالیسیوں، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح سے متعلق مختلف تجاویز زیر غور آئیں گی۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اتحادی جماعتوں کی حمایت سے بجٹ کی منظوری کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیا جائے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کی اجلاس میں شرکت حکومتی اتحاد کے لیے مثبت اشارہ ہے اور اس سے پارلیمانی کارروائی میں استحکام آنے کا امکان ہے۔ پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد کی ایک اہم جماعت ہے اور بجٹ سمیت اہم قانون سازی میں اس کی حمایت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی پارلیمنٹ میں سیاسی سرگرمیوں میں بھی تیزی آ گئی ہے اور مختلف جماعتوں کے رہنما بجٹ تجاویز پر اپنے اپنے مؤقف پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
بجٹ اجلاس شروع، بلاول بھٹو نے شرکت کر لی
