وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں دفاعی امور اور دفاعی سروسز کے لیے مجموعی طور پر 3 ہزار 10 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق موجودہ علاقائی اور عالمی سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق دفاعی سروسز کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ دفاعی انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 10 ارب 90 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ فنڈز دفاعی اداروں کے انتظامی اور آپریشنل امور کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
بجٹ میں دفاعی ملازمین کے اخراجات کے لیے 967 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس رقم سے افواجِ پاکستان کے افسران اور جوانوں کی تنخواہوں، الاؤنسز اور دیگر متعلقہ اخراجات پورے کیے جائیں گے۔
دفاعی آپریٹنگ اخراجات کے لیے 743 ارب 46 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس مد میں تربیت، آپریشنز، ایندھن، لاجسٹکس اور دیگر ضروری سرگرمیوں کے اخراجات شامل ہیں جو مسلح افواج کی روزمرہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق دفاعی فزیکل اثاثہ جات کے لیے 925 ارب 83 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس رقم کا مقصد جدید دفاعی سازوسامان، ٹیکنالوجی، آلات اور دیگر عسکری ضروریات کی خریداری اور بہتری کو یقینی بنانا ہے۔
اسی طرح دفاعی سول ورکس کے لیے 363 ارب 15 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس مد میں فوجی تنصیبات، بنیادی ڈھانچے، رہائشی منصوبوں اور دیگر تعمیراتی کاموں کے اخراجات شامل ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ دفاعی بجٹ میں اضافہ قومی سلامتی کے تقاضوں، جدید جنگی ضروریات اور خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق دفاعی اخراجات کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری مستقبل کی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
بجٹ تجاویز اب پارلیمانی بحث اور منظوری کے مراحل سے گزریں گی، جس کے بعد ان اخراجات کو حتمی شکل دی جائے گی۔
دفاعی بجٹ 3 ہزار 10 ارب روپے تجویز
