چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں آج ہی بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے، جبکہ خبردار کیا ہے کہ اگر ملاقات نہ کروائی گئی تو پارٹی بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ پر غور کرے گی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ ملک ہمارا ہے اور ہم اس ملک کے ہیں، لیکن ہمارے اراکین کو نااہل کیا گیا، ہم کس سے شکوہ کریں؟‘‘چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اکتوبر کے بعد سے ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیوں نہیں کروائی جا رہی اور اس حوالے سے واضح جواب دیا جائے۔بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ اس معاملے پر وہ پہلے بھی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے بات کر چکے ہیں، تاہم انہیں بتایا گیا تھا کہ مشاورت کے بعد جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس اب کوئی جواب موجود ہے تو اسے عوام اور پارلیمان کے سامنے رکھا جائے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے وفاقی بجٹ پر بھی سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں غریب طبقے کے لیے کوئی ریلیف نہیں رکھا گیا اور عوام کو بجلی، اشیائے ضروریہ اور دیگر بنیادی سہولتوں کی قیمتوں میں کمی کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے مؤثر انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ بیرسٹر گوہر نے سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض جماعتوں نے بھی حکومتی نشستوں اور انتخابی نتائج پر سوالات اٹھائے ہیں، جس سے سیاسی ماحول مزید پیچیدہ ہو رہا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ اگر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے مطالبے پر پیش رفت نہ ہوئی تو پارٹی بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ سمیت دیگر سیاسی آپشنز پر غور کر سکتی ہے۔
