آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ احتجاجی صورتحال کے دوران مبینہ طور پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض رہنماؤں کی آڈیو لیک وائرل ہو رہی ہے، آڈیو کال لیک میں سینکڑوں مسلح جنگجوؤں کے ساتھ راولا کوٹ میں داخل ہو کر کارروائی کرنے کے منصوبہ پر گفتگو سنی جا سکتی ہے-
آزاد جموں و کشمیر میں احتجاجی سرگرمیوں کے تناظر میں مبینہ طور پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے منسلک افراد کی ایک آڈیو لیک منظرِ عام پر آئی ہے، جس میں حمید کشمیری اور ساجد اعظم کے درمیان گفتگو سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے کہا گیا کہ جلوس کے بارے میں عمر نظیر نے منع کیا ہے آج نہیں جلو س کل دخل ہوگا-
مبینہ آڈیو میں ساجد اعظم کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ان کو میں کل ماروں گا کور کمیٹی والوں کو ،کل بھی روک لیاتھا آج بھی روک لیا ہے ان لوگوں نے میں ایک جگہ پر سب کو ساتھ لے کر رکا ہو ہوں ، ساجد اعظم نے کہا کہ میرے ساتھ ”500 رائفل بردار افراد“ موجود ہیں جو فل جنگجو ہیں اور ہر وقت تیار ہیں۔
آڈیو میں راولاکوٹ کی جانب پیش قدمی اور گرفتار ساتھیوں کی رہائی سے متعلق گفتگو بھی شامل ہے کہا گیا کہ ایک بار راولا کوٹ میں داخل ہوں پھر میں اعلا ن کروں گا کہ قال ہمارے حوالے کرو اور دو گھنٹے کے اندر اندر راولا کوٹ خالی کر دو،جو کچھ میں نے کرنا ہوا ان کے ساتھ کر لوں گا،آڈیو میں بعض مقاما ت پر سخت اور اشتعال انگیز جملے بھی سنائی دیتے ہیں، تاہم آڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے حالیہ پرتشدد احتجاج کی مذمت کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا ہے، سپریم کورٹ بار کے صدر راجا آفتاب احمد ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ ریاست کا امن خراب کرنے میں ملوث عناصر فوری طور پر ہتھیار ڈال دیں اور خود کو قانون کے حوا لے کریں، ایسے افراد کو عدالتوں میں قانونی معاونت فراہم کی جائے گی، تاہم قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ریاستی امن و امان کو نقصا ن پہنچانے والا کوئی بھی اقدام سنگین جرم ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ بار کا بیان واضح طور پر پرتشدد احتجاج کی مخالفت کرتا ہے اور اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اختلاف رائے کے اظہار کے لیے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
