Baaghi TV

سویڈن میں تارکینِ وطن کے خلاف سخت قانون منظور

israel

‎سویڈن کی پارلیمنٹ نے پیر کے روز ایک نیا اور انتہائی سخت قانون منظور کیا ہے جس کے تحت حکام کو ‘برے رویے’ کی بنیاد پر تارکینِ وطن کے رہائشی اجازت نامے (Residency Permits) منسوخ کرنے کا وسیع اختیار دے دیا گیا ہے۔ اس نئے قانون کے دائرہ کار میں نہ صرف وہ درخواستیں شامل ہیں جو ابھی زیرِ التوا ہیں، بلکہ ماضی میں پہلے سے جاری کیے گئے رہائشی اجازت ناموں پر بھی اس کا اطلاق ماضیِ بعید سے (Retroactively) ہوگا۔ اس قانون کے تحت اگر کوئی تارکِ وطن واجب الادا قرضے ادا نہیں کرتا، غیر اعلانیہ یا غیر قانونی کام (Undeclared work) میں ملوث پایا جاتا ہے، یا پھر اس کے انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ روابط ظاہر ہوتے ہیں، تو اسے ملک سے نکالا جا سکتا ہے۔
یہ اقدام سویڈن کی موجودہ دائیں بازو کی مخلوط حکومت اور اس کی حمایتی قوم پرست جماعت ‘سویڈن ڈیموکریٹس’ کی جانب سے امیگریشن قوانین کو مزید سخت بنانے کی اس وسیع مہم کا حصہ ہے، جو ستمبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل تیز کر دی گئی ہے۔ تاہم، اس قانون کو ملک کے اندر شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ سویڈن کی اپوزیشن جماعتوں اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں نے اس قانون کو یکطرفہ اور من مانا قرار دیتے ہوئے اس پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اس قانون کے تحت لوگوں کے خلاف فیصلے ایسے رویوں یا کاموں کی بنیاد پر کیے جائیں گے جنہیں قانوناً کبھی جرم تسلیم ہی نہیں کیا گیا، جس سے تارکینِ وطن کے حقوق شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

More posts