خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر ایک جامع صوبائی ایکشن پلان تیار کیا ہے، جس کا مقصد شدت پسند عناصر، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر اور منظم بنانا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبے بھر میں 16 ہزار 425 مبینہ شدت پسندوں کی پروفائلنگ مکمل کر لی گئی ہے۔ ان افراد کی شناخت، خاندانی معلومات اور دیگر ضروری تفصیلات حکومتی ریکارڈ کا حصہ بنا دی گئی ہیں تاکہ ان کی سرگرمیوں پر مؤثر نظر رکھی جا سکے۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ اب تک 4 ہزار 500 مبینہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ مختلف انٹیلی جنس بیسڈ اور سیکیورٹی آپریشنز کے دوران ایک ہزار 346 افراد مارے جا چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2 ہزار 448 مبینہ سہولت کاروں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں 251 سرکاری ملازمین شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کے کردار اور مبینہ روابط کی تفصیلی جانچ کی جا رہی ہے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق زیر نگرانی سرکاری ملازمین میں سب سے زیادہ تعداد محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی ہے، جن کی تعداد 92 بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ صحت کے 12 ملازمین بھی فہرست میں شامل ہیں۔
حکومت کے مطابق اب تک 158 سرکاری ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کیا جا چکا ہے، جبکہ مزید کیسز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق حکومت نے 337 افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا ہے، جن میں 233 مبینہ شدت پسند اور 104 مبینہ سہولت کار شامل ہیں۔ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی نقل و حرکت، مالی لین دین اور دیگر سرگرمیوں پر تین سال تک خصوصی نگرانی کی جاتی ہے۔
شدت پسندوں کے مالی وسائل محدود کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 255 افراد کی غیر منقولہ جائیدادوں کے خلاف کارروائی کی گئی، 739 منقولہ اثاثے ضبط کیے گئے، جبکہ 528 اسلحہ لائسنس منسوخ یا بلاک کر دیے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو کمزور کرنا، ان کی مالی معاونت روکنا اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانا ہے۔
خیبرپختونخوا میں 16 ہزار سے زائد شدت پسندوں کی پروفائلنگ مکمل، ہزاروں سہولت کار بھی سامنے آ گئے
