بھارتی ریاست کرناٹک کے ضلع میسور میں شادی سے چند روز قبل پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے علاقے میں سوگ کی فضا پیدا کر دی۔
مبینہ طور پر نجی تصاویر لیک ہونے اور شادی ٹوٹنے کے خدشے کے باعث 21 سالہ دلہن نے اپنے والدین کے ساتھ زہر کھا کر خودکشی کر لی۔پولیس کے مطابق 24 جون کو شادی کے بندھن میں بندھنے والی نوجوان لڑکی اور اس کے اہل خانہ شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے، تاہم ایک نوجوان کی جانب سے لڑکی کی برہنہ تصاویر اس کے منگیتر کو بھیجے جانے کے بعد حالات اچانک تبدیل ہو گئے۔ تصاویر سامنے آنے کے بعد دلہن اور اس کے منگیتر کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے جبکہ دونوں خاندانوں کے تعلقات بھی کشیدہ ہو گئے۔پولیس تحقیقات کے مطابق الاس گوڑا نامی نوجوان لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا اور مبینہ طور پر کافی عرصے سے اسے ہراساں کر رہا تھا۔ اہل خانہ نے اس کی شادی کی پیشکش مسترد کر دی تھی، جس پر وہ ناراض تھا۔
تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ 21 جون کو لڑکی کے والدین نے الاس گوڑا اور اس کے والدین کو اپنے گھر بلا کر معاملہ حل کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران نوجوان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے موبائل فون میں موجود لڑکی کی برہنہ ،نازیبا تصاویر اور پیغامات حذف کر دے، تاہم الزام ہے کہ اس نے چند تصاویر محفوظ رکھیں اور بعد ازاں وہ تصاویر لڑکی کے منگیتر کو بھیج دیں۔پولیس کے مطابق اس واقعے کے بعد شادی ٹوٹنے کا خدشہ پیدا ہو گیا، جس کے باعث پورا خاندان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گیا۔ بعد ازاں لڑکی، اس کی 44 سالہ والدہ اور 54 سالہ والد نے اپنے گاؤں کیمپینہونڈی میں مبینہ طور پر زہر کھا لیا۔تینوں افراد کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹر انہیں بچانے میں ناکام رہے اور تینوں دم توڑ گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے ایک مبینہ سوسائڈ نوٹ بھی ملا ہے، جس میں الاس گوڑا کو ان اموات کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ نوٹ کی فرانزک جانچ سمیت دیگر شواہد کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔واقعے کے بعد پولیس نے ملزم الاس گوڑا کے خلاف خودکشی پر اکسانے سمیت متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم فرار ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
