Baaghi TV


یمن میں حوثیوں کا بڑا حملہ، 14 فوجی ہلاک، 20 سے زائد زخمی

‎یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سرکاری فوجی اہلکاروں پر بڑا حملہ کرتے ہوئے کم از کم 14 فوجیوں کو ہلاک جبکہ 20 سے زائد کو زخمی کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملہ بحیرہ احمر سے متصل صوبہ الحدیدہ میں کیا گیا، جہاں دونوں فریقوں کے درمیان شدید جھڑپیں اور گولہ باری کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔
‎فوجی اور مقامی ذرائع کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے حیز کے علاقے میں واقع ماؤنٹ ڈاباس پر قائم سرکاری فوج کی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ حملے میں بھاری ہتھیاروں اور گولہ باری کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ زخمی اہلکاروں کو قریبی طبی مراکز منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
‎رپورٹس کے مطابق یہ حملہ حالیہ برسوں میں الحدیدہ کے محاذ پر اپنی نوعیت کا ایک بڑا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس علاقے میں گزشتہ کچھ عرصے سے نسبتاً کشیدگی کم تھی، تاہم تازہ حملے کے بعد ایک بار پھر جنگی صورتحال شدت اختیار کر گئی ہے۔
‎یمنی حکومت کے حامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد سرکاری فوج نے بھی جوابی کارروائی کی، تاہم فوری طور پر اس کے نتائج یا حوثیوں کے ممکنہ جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
‎یاد رہے کہ یمن میں 2015 سے حکومت اور حوثی گروپ کے درمیان جاری خانہ جنگی نے ملک کو شدید انسانی بحران سے دوچار کر رکھا ہے۔ اس طویل تنازع کے دوران لاکھوں افراد متاثر ہوئے، جبکہ لاکھوں شہری بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے متعدد بار خبردار کر چکے ہیں کہ یمن دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔
‎تجزیہ کاروں کے مطابق الحدیدہ میں حالیہ حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود یمن میں امن اب بھی نازک مرحلے میں ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی اور مختلف علاقائی طاقتوں کی شمولیت اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، جس کے باعث پائیدار امن کی کوششوں کو مسلسل چیلنجز کا سامنا ہے۔

More posts