Baaghi TV


پانچ ماہ بعد ایران اور قطر کے درمیان بحری تجارتی راستہ بحال

iran

‎ایران اور قطر کے درمیان بحری تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے والا اہم کارگو روٹ پانچ ماہ کی بندش کے بعد دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔ ایران کی بندرگاہ دیر (Dayyer) اور قطر کی الرویس (Al-Ruwais) بندرگاہ کے درمیان مال بردار جہازوں کی آمد و رفت ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
‎ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق دوحہ میں ایران کے تجارتی اتاشی عباس عبدالخانی نے بتایا کہ ایرانی سفارت خانے اور قطری حکام کے درمیان باہمی رابطوں اور مشاورت کے بعد بحری راستے کو دوبارہ فعال کیا گیا۔ ان کے مطابق اس پیش رفت سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو نئی رفتار ملے گی۔
‎یہ بحری راستہ بنیادی طور پر ایران اور قطر کے درمیان علاقائی تجارت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران جنگی حالات کے باعث یہ روٹ بند رہا، جبکہ ایرانی بندرگاہ دیر بھی تنازع کے دوران متعدد بار حملوں کی زد میں آئی، جس سے تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔
‎ماہرین کے مطابق قطر کی الرویس بندرگاہ ایران سے برآمد ہونے والی اشیا کے لیے ایک اہم تجارتی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس بحری راستے کی بحالی سے سامان کی ترسیل کا وقت کم ہوگا، نقل و حمل کے اخراجات میں کمی آئے گی اور دونوں ممالک کے تاجروں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
‎اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بحری رابطے کی بحالی نہ صرف دوطرفہ تجارت کو فروغ دے گی بلکہ خطے میں سپلائی چین کو بھی مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ اس اقدام سے خوراک، تعمیراتی سامان اور دیگر تجارتی اشیا کی ترسیل مزید آسان ہونے کی توقع ہے۔
‎یاد رہے کہ حالیہ تنازع کے دوران قطر نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بحری راستے کی بحالی دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کی جانب ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

More posts