لاہور ( )سعودی عرب کی قیادت میں پانچ مسلم ممالک پر مشتمل اتحادعالمِ اسلام کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہو گا ۔ حرمین شریفین کی میزبانی کی وجہ سے سعودی عرب کو امتِ مسلمہ میں ایک منفرد مذہبی اور اخلاقی مقام حاصل ہے، اسی لیے مسلمان ممالک کی بڑی تعداد اسے اتحاد، قیادت اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کی علامت سمجھتی ہے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے ڈائر یکٹر ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے کیا ۔ انھوں کہا کہ سعودی عرب کی قیادت میں پاکستان ، ترکیہ ، قطر اور مصر پر مشتمل اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ موجودہ عالمی حالات اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ مسلم ممالک نیٹو طرز پر ایک ایسا مضبوط اتحاد تشکیل دیں جو مشترکہ دفاع، انٹیلی جنس تعاون، اقتصادی شراکت، سائنسی ترقی اور سفارتی ہم آہنگی کو فروغ دے۔ اس اتحاد میں خلیجی ممالک، مشرقِ وسطی، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور دیگر اسلامی ریاستوں کی شمولیت مسلم دنیا کو ایک موثر اور باوقار قوت بنا سکتی ہے۔ یہ اشتراک وسیع اسلامی اتحاد کی شکل اختیار کرلے تو امتِ مسلمہ کے اجتماعی مفادات کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ ا س اتحاد کو موثر بنانے کیلئے پاکستان اور سعودی عرب اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔دونوں ممالک کا دفاع، معیشت، سرمایہ کاری، انسدادِ دہشت گردی اور سفارتی تعاون کے شعبوں میں دونوں ممالک کی قربت عالمِ اسلام کے لیے ایک مثبت مثال ہے۔ ا یسا اتحاد خلیجی خطے میں سلامتی کے استحکام، مشرقِ وسطی میں تنازعات کے حل، جنوبی ایشیا میں امن و استحکام اور اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو نئی جہت دے سکتا ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ اعتماد، اخوت اور باہمی تعاون پر مبنی رہے ہیں۔ مشترکہ عسکری مشقیں، جدید دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ، انسدادِ دہشت گردی میں تعاون اور اقتصادی راہداریوں کی توسیع مسلم دنیا کی اجتماعی طاقت میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔ اسی طرح عالمی فورمز پر متحدہ موقف اختیار کرنے سے فلسطین، کشمیر اور دیگر اہم اسلامی مسائل پر مسلم ممالک کی آواز پہلے سے زیادہ موثر انداز میں سنی جا ئے گی۔ مسلم قیادت اخلاص اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرے تو یہ اتحاد امتِ مسلمہ کے اتحاد، وقار، سلامتی اور ترقی کی جانب ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
مسلم ممالک پر مشتمل اتحادعالمِ اسلام کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہو گا ،حافظ مسعود اظہر
