وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ دہشتگردی، منظم جرائم، سائبر کرائم، منشیات و انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ جیسے چیلنجز کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے، ان سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر تعاون اور معلومات کا فوری تبادلہ ناگزیر ہے،جبکہ موجودہ حالات میں بین الاقوامی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کرچکا ہے-
یہ بات انہوں نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام پولیس سربراہان کے عالمی اجلاس (یو این کوپس) سے خطاب کرتے ہوئے کہی،انہوں نے اجلاس میں شر یک وزرائے داخلہ، پولیس سربراہان اور دیگر معزز شخصیات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کو مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے جو قومی سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ سرحدوں سے ماورا نوعیت اختیار کرچکے ہیں،دہشتگردی، منظم جرائم، سائبر جرائم، منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ جیسے خطرات سے دنیا کا کوئی ملک محفوظ نہیں اور کوئی بھی ملک تنہا ان چیلنجز کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں بین الاقوامی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کرچکا ہے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا، ایک دوسرے پر اعتماد بڑھا نا ہوگا اور جرائم کے تدارک کے لیے بروقت معلومات کا تبادلہ یقینی بنانا ہوگاقانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مضبوط شراکت داری قائم کرنا و قت کی اہم ضرورت ہےٹیکنالوجی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور جرائم پیشہ عناصر بھی اپنے مقاصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں اس لیے ہمیں جرائم کی روک تھام کے لیے جدید ذرائع اور ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانا ہوگا۔
محسن نقوی نے کہا کہ پولیس افسران کی استعداد کار میں اضافہ، جدید تربیت، مہارتوں کی بہتری اور جدت کو اپنانا ناگزیر ہے تاکہ بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جاسکے،اس اجلاس میں دنیا بھر سے تجربہ کار رہنما شریک ہیں، جن کے پاس قیمتی علم اور عملی تجربہ موجود ہےہمیں چاہیے کہ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں، کامیاب حکمت عملیوں کا تبادلہ کریں اور قانون نافذ کرنے کے شعبے میں تعاون کے نئے طریقے تلاش کریں۔
انہوں نے اقوام متحدہ پولیس کے مشیر فیصل شاکر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مختلف ممالک کے ہم منصبوں اور دوستوں سے ملاقات کا موقع فراہم کیا یہ اجلاس دنیا بھر کے ممالک کو اپنے عوام کے تحفظ، امن و سلامتی کے فروغ اور محفوظ مستقبل کے مشترکہ مقصد کے لیے متحد کرتا ہےاقوام متحدہ پولیس سر برا ہان کا یہ سمٹ عالمی امن اور سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
