خیبر پختونخوا کے علاقے خانپور میں محض 100 روپے کے گھریلو تنازع نے سنگین رخ اختیار کر لیا، جہاں سسرالیوں کے مبینہ تشدد کا شکار ہونے والی خاتون کو گولی مارنے کا الزام سامنے آیا ہے۔ واقعے کے بعد خاتون کو تشویشناک حالت میں راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ پولیس نے مقدمے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون ارم شہزادی راولپنڈی کے علاقے ڈھوک کالا خان کی رہائشی اور تین بچوں کی ماں ہے۔ اس کی شادی خانپور کے علاقے فقیر آباد میں ہوئی تھی۔ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ معمولی گھریلو تنازع کے دوران شوہر سے جھگڑا ہوا، جس کے بعد اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں گولی مار دی گئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جھگڑے کی وجہ صرف 100 روپے کا معاملہ بتایا جا رہا ہے، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
متاثرہ خاتون کو شدید زخمی حالت میں فوری طور پر ہولی فیملی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی نگرانی میں اس کا علاج جاری ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق خاتون کی حالت تشویشناک ہے اور اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
تھانہ خانپور پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ملزم شوہر موقع سے فرار ہو گیا، جس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور فرانزک سمیت دیگر قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔
پولیس حکام کے مطابق خاتون کے بیان اور دستیاب شواہد کی روشنی میں مقدمے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو قانون کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
دوسری جانب واقعے کے بعد متاثرہ خاندان نے انصاف فراہم کرنے اور ملزم کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ خاتون پر ہونے والا تشدد انتہائی افسوسناک ہے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
100 روپے کے تنازع پر خاتون کو مبینہ تشدد کے بعد گولی مار دی گئی
