اقوام متحدہ نے انتخابی فہرستوں سے اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کے نام مبینہ طور پر حذف کیے جانے کے معاملے پر بھارت سے باضابطہ جواب طلب کر لیا ہے۔ اقوام متحدہ کے تین خصوصی نمائندوں نے بھارتی حکومت کو ایک خط ارسال کرتے ہوئے اس معاملے پر وضاحت اور تفصیلی معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔
خط میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مذہبی اور نسلی بنیادوں پر انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے ووٹروں کا مکمل ریکارڈ فراہم کرے۔ اقوام متحدہ کے نمائندوں نے ان رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا ہے جن کے مطابق مغربی بنگال میں تقریباً 91 لاکھ جبکہ ملک کی 12 مختلف ریاستوں میں مجموعی طور پر تقریباً 5 کروڑ 20 لاکھ ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر ووٹر فہرستوں سے نام بڑے پیمانے پر حذف کیے گئے ہیں تو اس کے اثرات اقلیتی برادریوں، بالخصوص مسلمانوں، پر زیادہ پڑ سکتے ہیں، جس سے ان کے جمہوری اور سیاسی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
خط میں بھارتی حکومت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ووٹرز کی جانب سے دائر کی جانے والی اپیلوں، اعتراضات اور ان پر کیے گئے فیصلوں کی مکمل تفصیلات 60 دن کے اندر فراہم کرے تاکہ ان الزامات کا جائزہ لیا جا سکے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق رپورٹ میں مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن کے خصوصی ووٹر نظرثانی پروگرام (SIR) کے اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، خاص طور پر نندی گرام اسمبلی حلقے کی صورتحال پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نندی گرام اسمبلی حلقے میں جن ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے، ان میں تقریباً 95 فیصد مسلمان تھے، جبکہ اس حلقے کے کل ووٹروں میں مسلمانوں کا تناسب تقریباً 25 فیصد بتایا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر اقوام متحدہ کے نمائندوں نے اس معاملے میں شفافیت اور غیر جانبدارانہ وضاحت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
تاحال بھارتی حکومت کی جانب سے اس خط یا ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے اور آئندہ ہفتوں میں اس حوالے سے مزید پیش رفت متوقع ہے۔
اقوام متحدہ نے ووٹر فہرستوں سے اقلیتوں کے نام حذف کرنے کے معاملے پر بھارت سے وضاحت طلب کر لی
