ملک کے مختلف حصوں میں جاری مون سون بارشوں سے پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں دریا، ندی نالے بپھر گئے، متعدد سڑکیں بند ہو گئیں، کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا-
ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں کے باعث کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جس سے معمولاتِ زندگی متاثر، مواصلاتی رابطے منقطع اور نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے سے میانوالی میں حفاظتی بند ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں پانی قریبی آبادیوں میں داخل ہوگیا، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ بند کی مرمت کے لیے ہنگامی اقدامات جاری ہیں۔
دوسری جانب دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے، محکمہ آبپاشی کے مطابق دریا میں پانی کے بہاؤ پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہےسندھ کے ضلع دادو میں گاج ندی میں طغیانی کے باعث 10 سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے، کئی علاقوں میں لوگوں کو آمدورفت کے لیے کشتیوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔
ادھر تھرپارکر کے علاقے ننگرپارکر میں مسلسل بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں گزشتہ دو روز کے دوران 150 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں، تاہم مقامی افراد نے بارش کو صحرائی علاقے کے لیے رحمت قرار دیا ہےگلگت بلتستان میں چلاس اور گردونواح میں موسلا دھار بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، جس کے باعث متعدد رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیں، استور ویلی روڈ گزشتہ 6 روز سے بند ہے، جس کے نتیجے میں علاقے میں اشیائے خورونوش اور ضروری سامان کی قلت پیدا ہونے لگی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بھاری مشینری کے ذریعے سڑک بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ آج سندھ، جنوبی پنجاب، مشرقی بلوچستان اور بالائی علاقوں کے بعض مقامات پر مزید تیز بارشیں ہو سکتی ہیں، جبکہ پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا خدشہ برقرار ہے۔
دوسری جانب این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، برساتی ندی نالوں اور سیلابی ریلوں کے قریب جانے سے احتیاط برتیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔
