Baaghi TV

‎سندھ میں ایچ آئی وی خطرناک حد تک پھیلنے لگا، 6 ماہ میں 729 بچے متاثر

‎کراچی سمیت سندھ بھر میں رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران بچوں میں ایچ آئی وی کے تشویشناک پھیلاؤ نے ماہرین صحت کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے ذرائع کے مطابق یکم جنوری سے جون 2026 کے اختتام تک صوبے میں 729 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو چکی ہے، جو ملک بھر میں رپورٹ ہونے والے بچوں کے کیسز کا 90 فیصد سے زائد حصہ بنتا ہے۔
‎اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ بچوں میں 447 لڑکے اور 282 لڑکیاں شامل ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی نشاندہی کرتی ہے، جس پر فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
‎طبی ماہرین کے مطابق بچوں میں ایچ آئی وی کے اتنی بڑی تعداد میں سامنے آنے والے کیسز کو صرف ماں سے بچے میں وائرس کی منتقلی سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر محفوظ انجکشن، آلودہ طبی آلات کا استعمال، انفیکشن کنٹرول کے ناقص انتظامات اور صحت کے مراکز میں حفاظتی اصولوں پر مکمل عمل درآمد نہ ہونا بھی اس اضافے کی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
‎ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو متاثرہ بچوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں، کلینکس اور لیبارٹریوں میں انفیکشن کنٹرول کے نظام کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور طبی آلات کے محفوظ استعمال کو یقینی بنایا جائے۔
‎صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے یہ بھی زور دیا کہ حاملہ خواتین کی بروقت اسکریننگ، متاثرہ مریضوں کی جلد تشخیص، مفت علاج کی فراہمی اور عوام میں آگاہی مہم چلانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
‎محکمہ صحت سندھ کی جانب سے صورتحال کی نگرانی جاری ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کو صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال سمجھتے ہوئے مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

More posts