راولپنڈی میں سابق سی سی ڈی تھانے کے ایس ایچ او انسپکٹر محسن شاہ پر ایک کاروباری شخصیت کے مبینہ ٹارگٹ کلنگ کیس میں سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا نے انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
درخواست کے مطابق مقتول محمد ارشاد خان کی بیوہ نے سی پی او راولپنڈی کو تحریری درخواست دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے شوہر کو مبینہ طور پر کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کرایا گیا۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سابق ایس ایچ او انسپکٹر محسن شاہ نے اس قتل کی منصوبہ بندی میں کردار ادا کیا۔
درخواست گزار کے مطابق آزاد کشمیر کے ضلع باغ سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے مبینہ طور پر اس واردات کے لیے رابطہ کیا، جبکہ قتل کی کارروائی میں مردان اور سخاکوٹ سے تعلق رکھنے والے مبینہ سہولت کاروں اور شوٹرز کو استعمال کیا گیا۔
درخواست میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعد میں ایک جرگے کے دوران مبینہ سہولت کاروں نے قتل سے متعلق اہم انکشافات کیے۔ ان کے مطابق انہیں مبینہ طور پر محمد ارشاد خان کو نشانہ بنانے کے لیے کہا گیا تھا اور بعد ازاں طے شدہ رقم کی ادائیگی پر بھی تنازع پیدا ہوا۔
درخواست گزار نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ مقتول کے اہل خانہ نے مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کے بعد بعض مواصلاتی ریکارڈ بھی اکٹھے کیے، جنہیں وہ اپنی درخواست کے ساتھ متعلقہ حکام کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق انسپکٹر محسن شاہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جن افراد کے نام سامنے آ رہے ہیں وہ ان کے مخبر تھے اور ان کا اس قتل کی منصوبہ بندی یا عمل درآمد سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق اگر متعلقہ افراد آپس میں کسی معاملے پر ملے تھے تو وہ ان کی موجودگی کے بغیر ہوا۔
واضح رہے کہ اس ٹارگٹ کلنگ کیس میں ملوث قرار دیے جانے والے چار مبینہ شوٹرز اس سے قبل ایک علیحدہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم مقتول کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ اس کیس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات چاہتے ہیں۔
سابق سی سی ڈی ایس ایچ او پر ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونے کا الزام
