Baaghi TV


رام اللہ میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے، دو مساجد نذر آتش، عرب ممالک کی شدید مذمت

‎مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں رام اللہ کے مختلف علاقوں میں دو مساجد، متعدد گاڑیاں اور زرعی اراضی کو آگ لگا دی گئی۔ مقامی ذرائع کے مطابق آبادکاروں نے رات کی تاریکی میں مختلف دیہات پر دھاوا بولتے ہوئے املاک کو نشانہ بنایا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہریوں میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی۔
‎رپورٹس کے مطابق اسرائیلی آبادکاروں نے اشتعال انگیز کارروائیاں کرتے ہوئے عبادت گاہوں کی بے حرمتی کی، متعدد گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور زرعی زمینوں میں بھی آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچا۔ فلسطینی شہریوں نے ان حملوں کو منظم کارروائی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
‎اس سے دو روز قبل بھی مغربی کنارے کے گاؤں تال میں اسرائیلی آبادکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید ہوگئے تھے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے اور درجنوں فلسطینیوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔ مقامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں آبادکاروں کے حملوں اور گرفتاریوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
‎دوسری جانب اسرائیلی قابض افواج نے قلقیلیہ میں ایک فلسطینی نوجوان کو پیشانی پر گولی مار کر شہید کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق نوجوان کو براہ راست نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ فلسطینی حکام نے اس واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
‎ادھر آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزراء اور انتہا پسند آبادکاروں کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز اقدامات اور بے حرمتی کی شدید مذمت کی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج کی سکیورٹی میں انتہا پسند عناصر کا مسجد اقصیٰ میں داخل ہونا، اسرائیلی پرچم لہرانا اور آبادکاروں کی یلغار بین الاقوامی قوانین اور تاریخی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
‎وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں واضح کیا کہ مقبوضہ مشرقی القدس کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزراء اور انتہا پسند گروہوں کی سرگرمیاں خطے میں نفرت اور کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں اور دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید کمزور کر رہی ہیں۔
‎اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل فوری طور پر بیت المقدس کے قدیم شہر تک مسلمانوں کی رسائی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے اور مسجد اقصیٰ کے تمام احاطے میں عبادت کا خصوصی حق صرف مسلمانوں کا تسلیم کیا جائے۔ وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقبوضہ بیت المقدس اور وہاں موجود اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر اسرائیل کو کوئی قانونی خودمختاری حاصل نہیں، جبکہ اردن کی ہاشمی سرپرستی اور محکمہ اوقاف کے انتظامی کردار کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اقدامات کرتے ہوئے اسرائیل کو مقدس مقامات کی بے حرمتی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے روکے۔

More posts