یوکرین کے صدر ولادمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس یوکرین کے خلاف جاری جنگ میں مزید 30 ہزار شمالی کوریائی فوجیوں کو شامل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ماسکو نہ صرف اضافی فوجی تعینات کرنا چاہتا ہے بلکہ شمالی کوریا سے مزید عسکری سازوسامان بھی حاصل کر رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ روس گزشتہ ماہ سے وورونز کے سرحدی علاقے میں شمالی کوریائی فوجیوں کے استقبال اور تعیناتی کی تیاریاں کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جون سے اس مقصد کے لیے انتظامات جاری ہیں اور ماسکو ان فوجیوں کو جنگی محاذ پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
زیلنسکی نے مزید دعویٰ کیا کہ پیانگ یانگ روس کو بیلسٹک میزائلوں کے لیے اضافی لانچر بھی فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ روسی افواج کی جنگی صلاحیت میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔
یوکرینی صدر کے مطابق یہ پیش رفت صرف یوکرین کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس شمالی کوریا کو جدید جنگی تجربہ حاصل کرنے، ہتھیاروں کی آزمائش اور عسکری صلاحیتوں میں بہتری کا موقع فراہم کر رہا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں خطے اور دنیا کے دیگر حصوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
زیلنسکی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ روس اور شمالی کوریا کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور ایسے اقدامات کرے جو خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوں۔
دوسری جانب روس اور شمالی کوریا کی جانب سے زیلنسکی کے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
روس مزید 30 ہزار شمالی کوریائی فوجیوں کو یوکرین جنگ میں لانے کی تیاری کر رہا ہے، زیلنسکی کا دعویٰ
