امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات کی۔ ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی بالمشافہ ملاقات تھی، جسے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق بند کمرے میں ہونے والی یہ ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹے جاری رہی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ملاقات کو "مثبت اور نتیجہ خیز” قرار دیا، تاہم دونوں رہنماؤں کے دفاتر کی جانب سے فوری طور پر مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں رہنما اپنے اپنے ممالک میں سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسرائیل میں نیتن یاہو آئندہ انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں حالیہ مہینوں کے دوران کچھ کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں یوکرین کے فضائی دفاع کو مزید مضبوط بنانے اور روس کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یوکرینی ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران روسی میزائل حملوں کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کی دفاعی صلاحیت بڑھانے پر خاص توجہ دی گئی۔ ملاقات کے بعد صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی یوکرین میں مقامی سطح پر تیاری کے لیے لائسنس اور دیگر دفاعی تجاویز پر بات چیت کی۔
زیلنسکی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایسے اقدامات پر بھی غور کیا جو یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کو مزید مؤثر بنا سکتے ہیں اور روسی حملوں سے شہریوں اور اہم تنصیبات کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں گے۔
واشنگٹن میں ٹرمپ کی نیتن یاہو اور زیلنسکی سے اہم ملاقاتیں
