حکومت نے ملک کی تین بڑی بجلی تقسیم کار کمپنیوں، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے نئی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لیے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری میں اختیار کیے گئے ماڈل سے ملتا جلتا طریقہ کار اپنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
نجکاری کمیشن کے ذرائع کے مطابق ورلڈ بینک کی سفارشات کی روشنی میں ان تینوں ڈسکوز کی وہ زمینیں جو اس وقت صدرِ پاکستان کے نام پر رجسٹرڈ ہیں، دوبارہ متعلقہ کمپنیوں کے نام منتقل کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد نجکاری کے عمل کو قانونی اور انتظامی پیچیدگیوں سے پاک بنانا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو اثاثوں کی منتقلی میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ واپڈا اور صوبائی حکومتوں کے نام پر موجود زمینوں اور دیگر مخصوص اثاثوں کو ایک خصوصی ادارے، یعنی اسپیشل پرپز وہیکل ہولڈنگ کمپنی (SPV)، کے حوالے کیا جائے گا۔ اس کمپنی کے ذریعے تمام متعلقہ اثاثوں کو منظم انداز میں رکھا جائے گا تاکہ نجکاری یا لیز کے عمل کے دوران انہیں آسانی سے نئے خریدار یا سرمایہ کار کو منتقل کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق اس نئے ڈھانچے کا مقصد نجکاری کے پورے عمل کو زیادہ شفاف، مؤثر اور سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنانا ہے۔ ماضی میں قانونی پیچیدگیوں اور اثاثوں کی ملکیت سے متعلق مسائل کے باعث مختلف نجکاری منصوبے تاخیر کا شکار ہوتے رہے ہیں، تاہم اس بار حکومت پہلے مرحلے میں ان رکاوٹوں کو دور کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ان بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے تمام اثاثوں کا تعین 31 مارچ تک کی بیلنس شیٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اسی مالیاتی ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے نجکاری یا لیز کے لیے حتمی اسٹرکچر تیار کیا جائے گا، جس کے بعد سرمایہ کاروں کو باضابطہ پیشکش کی جائے گی۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہوتا ہے تو بجلی کی تقسیم کے نظام میں بہتری، مالی نقصانات میں کمی اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم اس عمل کی کامیابی کا انحصار شفافیت، مناسب ریگولیٹری نگرانی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر ہوگا۔
آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کی تیاریاں، پی آئی اے ماڈل اپنانے کا فیصلہ
