بنگلادیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے کہا ہے کہ انہیں اپنی جان کو سنگین خطرات لاحق ہیں، اس کے باوجود وہ رواں سال دسمبر تک وطن واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام خدشات کے باوجود اپنے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گی۔
شیخ حسینہ واجد نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ بنگلادیش واپسی پر انہیں قتل کیا جا سکتا ہے یا گرفتار کر کے جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ممکنہ انجام سے بخوبی واقف ہیں، لیکن اس کے باوجود وطن واپس جانے کے فیصلے پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے ملک اور عوام کے درمیان موجود رہیں۔ ان کے مطابق بنگلادیش کے عوام کی آواز اور حمایت ہی ان کے وطن واپسی کے فیصلے کی سب سے بڑی وجہ ہے، اور وہ ہر حال میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتی ہیں۔
سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ وہ ذاتی تحفظ سے زیادہ اپنے ملک اور عوام کے مستقبل کو اہم سمجھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں مشکلات یا قانونی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑا تو وہ اس کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں۔
شیخ حسینہ کے بیان نے بنگلادیش کی سیاسی صورتحال پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان کی ممکنہ واپسی سے ملک کی سیاست میں نئی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے، جبکہ ان کی سلامتی اور قانونی حیثیت سے متعلق سوالات بھی اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔
تاہم بنگلادیشی حکام کی جانب سے ان کے بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ اگر وہ دسمبر میں وطن واپس آتی ہیں تو ان کے خلاف کسی قانونی کارروائی یا گرفتاری کا امکان موجود ہے یا نہیں۔
شیخ حسینہ کا وطن واپسی کا اعلان، کہا جان کو خطرہ ہے
