آئرش گلوکار، نغمہ نگار اور معروف اداکار گلین ہینسارڈ 56 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ موٹر سائیکل حادثے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور کئی روز تک زیرِ علاج رہنے کے بعد بدھ کے روز آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں دم توڑ گئے۔ ان کی وفات کی خبر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں ان کے مداحوں، موسیقاروں اور شوبز شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
گلین ہینسارڈ کو موسیقی کی دنیا میں ایک منفرد مقام حاصل تھا۔ انہوں نے کم عمری ہی میں گلوکاری اور نغمہ نگاری کا آغاز کیا اور اپنی منفرد آواز اور دل کو چھو لینے والے انداز کی بدولت جلد ہی شہرت حاصل کر لی۔ سن 1990 میں انہوں نے آئرش راک بینڈ دی فریمز کی بنیاد رکھی، جس نے کئی کامیاب گانے پیش کیے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی شناخت بنائی۔
گلین ہینسارڈ کو عالمی شہرت 2007 میں ریلیز ہونے والی میوزیکل فلم ونس سے ملی، جس میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔ اس فلم میں ان کی اداکاری اور موسیقی دونوں کو بے حد سراہا گیا۔ فلم کا مشہور گانا فالنگ سلولی نہ صرف دنیا بھر میں مقبول ہوا بلکہ اسے بہترین اوریجنل گانے کا اکیڈمی ایوارڈ، یعنی آسکر بھی ملا۔ اس کامیابی نے گلین ہینسارڈ کو بین الاقوامی موسیقی اور فلمی دنیا کے نمایاں فنکاروں میں شامل کر دیا۔
اپنے طویل کیریئر کے دوران انہوں نے متعدد کامیاب البمز، لائیو پرفارمنسز اور بین الاقوامی موسیقی کے منصوبوں میں حصہ لیا۔ ان کے گیت محبت، امید اور انسانی جذبات کی عکاسی کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ مختلف نسلوں کے سامعین ان کی موسیقی سے گہرا تعلق محسوس کرتے تھے۔
ان کی وفات پر سوشل میڈیا پر مداحوں نے انہیں شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی یادگار موسیقی کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ موسیقی سے وابستہ شخصیات کا کہنا ہے کہ گلین ہینسارڈ نے اپنی آواز، تخلیقی صلاحیت اور لازوال گیتوں کے ذریعے ایسی میراث چھوڑی ہے جو آنے والے برسوں تک موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ رہے گی۔
آئرش گلوکار گلین ہینسارڈ موٹر سائیکل حادثے کے بعد انتقال کر گئے
