وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک پرانی اور گھسی پٹی تجویز ہے جسے سندھ کے عوام کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
بھٹ شاہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہوں نے محسن نقوی کا بیان سنا ہے، تاہم انہیں معلوم نہیں کہ ان کا اشارہ کس جانب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر داخلہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ نظام میں خرابیاں ہیں تو انہیں اس کے حل کے لیے قابل عمل تجاویز دینی چاہییں، لیکن نئے انتظامی یونٹس کی بات کوئی نئی سوچ نہیں بلکہ ایک پرانا مؤقف ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہے، بلوچستان میں اتحادی حکومت ہے، سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی برسرِ اقتدار ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت موجود ہے۔ ان کے مطابق ہر صوبہ اپنے آئینی دائرہ کار میں کام کر رہا ہے اور اصلاحات آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے تحت ہونی چاہییں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے اور یہاں کے عوام اپنی شناخت، تاریخ اور ثقافت سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، اس لیے وہ ایسی تجاویز کو قبول نہیں کریں گے جو صوبے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کریں۔
انہوں نے نوجوانوں سے متعلق بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ملک کا مستقبل اور سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی نوجوان آنے والے وقت میں ملک کی قیادت سنبھالیں گے، اس لیے انہیں منفی القابات دینے کے بجائے ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی نوجوانوں کو "کاکروچ” نہیں سمجھا بلکہ ہمیشہ انہیں پاکستان کی ترقی کی امید قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ موجودہ انتظامی نظام مؤثر نہیں رہا، اس لیے ملک کی بہتر حکمرانی اور ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کے قیام پر غور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
محسن نقوی کی تجویز گھسی پٹی ہے، سندھ کے لوگ اسے قبول نہیں کریں گے: مراد علی شاہ
