تہران: ایران کے سابق سپریم لیڈر کے اعلیٰ فوجی مشیر محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے یوکرین میں تین مقامات پر حملے کی مکمل تیاری کر لی تھی ۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے مجوزہ حملوں کی تمام تیاریاں مکمل کر لی تھیں، لیکن بعد میں آپریشن روکنے کا فیصلہ کیا گیا،یوکرین کی جانب سے معذرت کے بعد ایران نے فوجی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم انہوں نے اس مبینہ معذرت کی نوعیت یا اس کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
محسن رضائی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا کہ ایران اپنی مقررہ بحری گزرگاہ کے علاوہ کسی متبادل راستے کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی مخالف بحری جہاز ایران کی نظر میں غیر قانونی راستہ اختیار کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے حالیہ 17 روزہ ایران۔امریکا کشیدگی کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے امریکی فوجی منصوبوں کو ناکام بنایا اور امریکی افواج کو بھاری نقصان پہنچایا تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی آزاد شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے 25 جولائی کو یوکرین پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے بحیرہ کیسپین میں ایک ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کا ایک عملہ رکن ہلاک ہو گیا تھا،دوسری جانب یوکرین نے ان الزامات کے بارے میں باضابطہ طور پر کوئی مؤقف جاری نہیں کیا، جبکہ محسن رضائی کے تازہ دعوؤں کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
