Baaghi TV

ایران جنگ،اسلحہ کی کمی،ٹرمپ وزیر دفاع پر پھٹ پڑے

trump

واشنگٹن: ایران کے ساتھ ممکنہ جنگی صورتحال کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے درمیان اختلافات سے متعلق امریکی اخبار کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے، تاہم وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے کابینہ اجلاس کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے اس بات پر جواب طلب کیا کہ انہیں امریکی فوج کے گولہ بارود کے ذخائر میں شدید کمی کے حوالے سے مکمل طور پر آگاہ کیوں نہیں کیا گیا، جس کے باعث ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے آپشنز محدود ہو گئے۔رپورٹ میں دو باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اس موقع پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ گولہ بارود کی قلت کا مسئلہ حل ہو چکا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔

رپورٹ کے مطابق خاص طور پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کی کمی ان اہم وجوہات میں شامل ہے جن کی وجہ سے صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی حملوں سے گریز کیا۔اخبار نے مزید دعویٰ کیا کہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اپنی صفائی میں اس صورتحال اور صدر کو مکمل معلومات نہ ملنے کی ذمہ داری اپنے نائب اسٹیفن فینبرگ پر عائد کی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ واقعہ صدر ٹرمپ کی اپنے وزیرِ دفاع سے بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ پیٹ ہیگسیتھ ان ابتدائی عہدیداروں میں شامل تھے جنہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی بھرپور حمایت کی تھی اور اسے نسبتاً آسان کامیابی قرار دیا تھا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ یہ "سو فیصد جعلی خبر” ہے، ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور صدر ٹرمپ کو وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ پر مکمل اعتماد حاصل ہے۔

ادھر پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے بھی رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ دفاع نے نہ تو گولہ بارود کی صورتحال پر کسی کو گمراہ کیا اور نہ ہی اپنے نائب کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلحے کے ذخائر میں کمی، اندرونی اختلافات اور ایران سے متعلق وزیرِ دفاع کے مؤقف کے حوالے سے کیے جانے والے تمام دعوے من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔

More posts