کراچی کے نوجوان میر رضا کے پراسرار موت کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالتی حکم پر میر رضا کی قبر کشائی کل صبح 9 بجے کی جائے گی، جبکہ دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے ماہرین پر مشتمل خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق میڈیکل بورڈ میں ڈاؤ میڈیکل کالج کے شعبۂ پیتھالوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد، سندھ میڈیکل کالج کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فرح وسیم، فرانزک آئیڈنٹیفیکیشن ایکسپرٹ عامر حسن خان، ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر شری چند، جناح اسپتال کے میڈیکو لیگل آفیسر ڈاکٹر کامران خان اور ڈاکٹر دانیال مرزا سمیت دیگر ماہرین شامل ہیں۔ ایڈمن انچارج پولیس سرجن ڈاکٹر محمد یاسین اور پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ بھی بورڈ کا حصہ ہوں گے۔
اس سے قبل جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ نے میر رضا کے والد کی درخواست منظور کرتے ہوئے قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کی اجازت دی تھی۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں سیکرٹری صحت کو ہدایت کی کہ فوری طور پر میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر قبر کشائی کے عدالتی حکم پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
سماعت کے دوران میر رضا کے والد نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ابتدائی تفتیش اور پوسٹ مارٹم میں سنگین خامیاں رہ گئی ہیں، جس کے باعث اصل حقائق سامنے نہیں آ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ شفاف تحقیقات اور موت کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے دوبارہ پوسٹ مارٹم ناگزیر ہے۔
سرکاری وکیل نے قبر کشائی کی درخواست کی مخالفت نہیں کی، جبکہ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ریاست بھی حقائق سامنے لانے کے عمل میں متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔
واضح رہے کہ میر رضا کی موت کے بعد ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔ بعد ازاں اہلخانہ نے دوبارہ پوسٹ مارٹم اور مزید فرانزک معائنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا، جس کے بعد عدالت نے قبر کشائی کی درخواست منظور کر لی۔ اب میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سے کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔
میر رضا کیس: قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل
