جنوبی کوریا اور جاپان نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا نے ایک بار پھر مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کرتے ہوئے اسے جزیرہ نما کوریا کے مشرقی سمندر کی جانب داغ دیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنوبی کوریا کی فوج نے میزائل تجربے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کے بعد نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے اور دفاعی تیاریوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
دوسری جانب جاپانی حکومت نے بھی کہا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے داغا گیا ہتھیار بظاہر ایک بیلسٹک میزائل تھا۔ جاپان نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال شمالی کوریا متعدد بار مختلف نوعیت کے ہتھیاروں کا تجربہ کر چکا ہے، جن میں مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل، راکٹ سسٹمز اور دیگر ٹیکٹیکل ہتھیار شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیانگ یانگ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق جون کے آخر میں بھی شمالی کوریا نے ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم اور ٹیکٹیکل میزائلوں کے تجربات کیے تھے، جس کے بعد خطے میں عسکری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
جنوبی کوریا کی فوج نے بتایا کہ وہ امریکا اور جاپان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ مسلسل جاری ہے تاکہ کسی بھی غیر معمولی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ میزائل تجربہ شمالی کوریا کی جانب سے ایک سیاسی اور عسکری پیغام بھی ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان جلد شروع ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں سے قبل سامنے آیا ہے، جسے پیانگ یانگ اپنی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں نے اسے کم یو جونگ کے حالیہ بیان سے بھی جوڑا ہے، جس میں انہوں نے جاپان کی فوجی سرگرمیوں اور ٹام ہاک میزائل پروگرام پر سخت تنقید کی تھی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں اسی نوعیت کی عسکری سرگرمیاں جاری رہیں تو مشرقی ایشیا میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں اور سفارتی کشیدگی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
شمالی کوریا کا ایک اور بیلسٹک میزائل تجربہ، جاپان اور جنوبی کوریا میں تشویش
