Baaghi TV


صارفین کا بینک ڈیٹا بھی قانونی جائیداد قرار، لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

‎لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بینک صارفین کا ذاتی اور مالیاتی ڈیٹا بھی قانونی طور پر جائیداد کے زمرے میں آتا ہے، جس کے غیر قانونی استعمال یا ناجائز فائدہ اٹھانے پر فوجداری کارروائی کی جا سکتی ہے۔
‎عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کسی صارف کے بینک ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی دراصل اس کے مالی مفادات تک رسائی کے مترادف ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے عہدے یا اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اس معلومات سے فائدہ اٹھاتا ہے یا اسے غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے تو اس کے خلاف فوجداری بددیانتی سمیت متعلقہ قانونی دفعات کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
‎یہ فیصلہ جعلی سمز کے ذریعے بینک اکاؤنٹس سے رقم منتقل کرنے کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔ عدالت نے کیس میں گرفتار بینک ملازم کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی، جبکہ سم فرنچائز کے مالک کی ضمانت منظور کر لی۔
‎عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ جدید ڈیجیٹل دور میں بینکنگ معلومات صرف ریکارڈ نہیں بلکہ ایک قیمتی اثاثہ ہیں، جن کے ذریعے کسی بھی فرد کے مالی معاملات تک رسائی ممکن ہوتی ہے۔ اسی لیے ایسے ڈیٹا کا تحفظ قانونی ذمہ داری ہے اور اس کے غلط استعمال کو معمولی جرم نہیں سمجھا جا سکتا۔
‎ماہرین قانون کے مطابق یہ فیصلہ مستقبل میں سائبر کرائم، مالیاتی فراڈ اور صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق مقدمات کے لیے ایک اہم قانونی نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس فیصلے سے مالیاتی اداروں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صارفین کی معلومات کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کریں۔
‎حالیہ برسوں میں آن لائن بینکنگ، ڈیجیٹل لین دین اور سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ شہریوں کے مالیاتی حقوق کے تحفظ اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے، جو مستقبل میں ایسے جرائم کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

More posts