Baaghi TV

پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں اقلیتی برادری کی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،آصفہ بھٹو

ppp

خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے قومی اقلیتی دن کے موقع پر پاکستان کی اقلیتی برادریوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر پاکستانی ملک کی قومی برادری کا برابر کا رکن ہے اور سب شہریوں کو مساوی حقوق اور مواقع حاصل ہونے چاہئیں۔

آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ اقلیتی برادریوں نے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں ہمیشہ اہم اور قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے۔ تعلیم، صحت، کاروبار، دفاع اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی صلاحیتوں، محنت اور خدمات کے ذریعے ملک کی ترقی میں نمایاں حصہ ڈالا ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اقلیتی برادریوں کی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، جبکہ ملک کی تعمیر میں ان کی قربانیاں اور کردار قومی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ قومی اقلیتی دن ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کو بلاامتیاز مساوی احترام، حقوق اور مواقع فراہم کیے جائیں،خاتونِ اول نے بالخصوص اقلیتی نوجوانوں اور خواتین کے لیے تعلیم، ہنر، روزگار اور قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کو بہتر تعلیم اور فنی تربیت کے مواقع فراہم کرکے انہیں معاشی اور سماجی طور پر بااختیار بنایا جاسکتا ہے، جبکہ خواتین کو بھی اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور ملکی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جانا چاہیے۔

آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کے لیے جہاں ہر شہری خود کو محفوظ، باعزت اور برابر سمجھے، خاندان، تعلیمی اداروں اور ریاست کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ احترام، رواداری، برداشت اور مساوی سلوک کو فروغ دینا اجتماعی ذمہ داری ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مضبوطی اس بات میں ہے کہ یہاں رہنے والے تمام شہریوں کو ان کے مذہب یا عقیدے سے قطع نظر برابر کا شہری سمجھا جائے اور انہیں قومی ترقی کے سفر میں آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں،خاتونِ اول نے قومی اقلیتی دن کے موقع پر اقلیتی برادریوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مسلسل ترقی، خوشحالی اور فلاح و بہبود کے لیے دعا کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایک پرامن، روادار اور مساوی معاشرے کے قیام کے لیے اجتماعی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔

More posts