پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کی بدلتی ہوئی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے،اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا،ترکی کے وزیر خارجہ نے اس اصول کو نیٹو کے اجتماعی دفاع کے اصول سے تکنیکی طور پر مماثل قرار دیا ہے،اس معاہدے کے فوراً بعد پاکستان میں بعض حلقوں کی طرف سے اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور یہاں تک کہا گیا کہ ایسے دفاعی معاہدے کسی طرح قابلِ قبول نہیں ہیں
اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا خارجہ پالیسی اور دفاعی تعاون کے بارے میں کوئی اصول سب ممالک کے لیے یکساں بھی ہے یا نہیں؟یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ عالمی سیاست میں کوئی ملک تنہائی میں نہیں رہتا ہر ریاست اپنی سلامتی، معیشت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدے کرتی ہے اور اگر پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا باہمی دفاعی تعاون قابلِ اعتراض ہے تو پھر اسی پیمانے سے دوسرے ممالک کے معاہدوں اور دفاعی تعاون کو بھی دیکھنا چاہیے
ایران اور بھارت کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے،23 جنوری 2003 کو ایران اور بھارت نے نئی دہلی میں ایک تزویراتی تعاون کی دستاویز پر دستخط کئے تھے جس میں دونوں ممالک نے دفاعی شعبے میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے، تربیت اور دفاعی وفود کے تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے بھارتی وزارتِ خارجہ کے سرکاری ریکارڈ میں بھی اس دور کے ایران بھارت تزویراتی تعاون کی دستاویزات موجود ہیں
اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دو مسلم ممالک اور ایک دوست ملک کے درمیان دفاعی تعاون پر اعتراض ہے تو ایران اور بھارت کے درمیان تزویراتی اور دفاعی تعاون کو کس اصول کے تحت دیکھا جائے گا؟
یہاں کسی ملک کو برا یا اچھا ثابت کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ اصل بات اصول کی یکسانیت ہے
ایران کی خارجہ پالیسی میں ایک اور مثال افغانستان کی ہے 2001 میں طالبان کے خلاف امریکی کارروائی کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان افغانستان کے مستقبل کے بارے میں رابطے ہوئے تھے اور ایران نے طالبان مخالف قوتوں کی حمایت کی اور دسمبر 2001 میں بون کانفرنس کے دوران افغانستان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے امریکی حکام کے ساتھ تعاون بھی کیا تگا جبکہ امریکی ادارہ برائے امن کی دستاویزات میں اس تعاون کا ذکر موجود ہے
یہ بھی خارجہ پالیسی کی ایک حقیقت ہے کہ ریاستیں بعض اوقات ایسے ممالک کے ساتھ بھی محدود تعاون کرتی ہیں جن کے ساتھ ان کے بنیادی اختلافات موجود ہوتے ہیں جیسے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اس وقت شدید اختلافات تھے، لیکن افغانستان کے معاملے میں دونوں نے اپنے اپنے مفادات کے تحت ایک دوسرے سے رابطہ کیا اور اسی طرح 2014 ۔15 میں عراق و شام میں داعش کی حکومت قائم ہونے پر بھی اکھٹے ہوئے تھے
تو پھر سوال یہ ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی اگر اپنی سلامتی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی تعاون کرتے ہیں تو اسے صرف اسی بنیاد پر قابلِ مذمت کیوں قرار دیا جائے کہ اس میں تین ممالک شامل ہیں؟
حالانکہ یہ تینوں ممالک مسلمان ہیں
دفاعی معاہدے کی شرعی یا اخلاقی حیثیت پر بحث یقیناً کی جا سکتی ہے لیکن اس بحث کے لیے معاہدے کی اصل شقوں، مقاصد اور نتائج کو سامنے رکھنا چاہیے محض یہ کہنا کافی نہیں کہ فلاں ملک کے ساتھ معاہدہ اس لئے غلط ہے کہ وہ فلاں ملک ہے
اس معاملے میں ایک اور دلچسپ حقیقت سامنے آئی ہے کہ 10 اگست 2026 کو ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی معاہدے کے بارے میں کہا کہ ایران کو اس معاہدے سے خوف زدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں انہوں نے کہا کہ اگر علاقائی تعاون جامع ہو اور خطے کو درپیش حقیقی خطرات سے نمٹنے میں مدد دے تو ایسا تعاون مفید ہو سکتا ہے
یہ بیان خاص توجہ کا مستحق ہے کہ اگر ایران کی اپنی حکومت اس معاہدے کو فوری طور پر اپنے خلاف خطرہ قرار نہیں دے رہی اور اسے علاقائی ممالک کے اپنی سلامتی کے لیے زیادہ ذمہ داری لینے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہی ہے تو پاکستان میں بیٹھ کر اسے ،کمینگی، یا ،حرام، قرار دینے والوں کو کم از کم یہ وضاحت ضرور کرنی چاہیے کہ ان کے اعتراض کی اصل بنیاد کیا ہے؟
کیا اعتراض اس بات پر ہے کہ پاکستان نے ترکی کے ساتھ دفاعی تعاون کیا؟
کیا اعتراض سعودی عرب کے ساتھ تعاون پر ہے؟
کیا اعتراض اجتماعی دفاع کے اصول پر ہے؟
یا اصل اعتراض یہ ہے کہ اس معاہدے میں ایران شامل نہیں؟
اگر اعتراض اصولی ہے تو پھر وہی اصول ایران اور بھارت کے تزویراتی و دفاعی تعاون، ایران کے مختلف علاقائی اتحادیوں کے ساتھ فوجی تعاون اور ماضی میں افغانستان کے معاملے پر ایران کے امریکہ کے ساتھ رابطوں پر بھی لاگو ہونا چاہیے
یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ ایران کی خارجہ پالیسی میں موجود ہر اقدام کو غلط کہنا بھی درست نہیں، جس طرح پاکستان، سعودی عرب یا ترکی کے ہر فیصلے کو درست قرار دینا بھی ضروری نہیں
ریاستیں اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہیں اور ان فیصلوں پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے لیکن تنقید کے لیے ایک ہی ترازو ہونا چاہیے
اگر ایک ملک اپنے دفاع کے لیے دوسروں کے ساتھ معاہدہ کرے تو اسے ،امت دشمنی، کہا جائے، جبکہ دوسرا ملک اسی مقصد کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی تعاون کرے تو اسے ،مزاحمت، ،علاقائی تعاون”،یا ،قومی مفاد، قرار دیا جائے، تو یہ اصولی مؤقف نہیں رہتا بلکہ دوہرا معیار بن جاتا ہے
مکہ کا دفاعی معاہدہ کامیاب ہوگا یا ناکام یہ آنے والا وقت بتائے گا اور اس کے عملی اثرات بھی وقت کے ساتھ سامنے آئیں گے لیکن ایک بات ابھی سے واضح ہے کہ آج کی دنیا میں ریاستیں اپنی سلامتی کے لیے نئے علاقائی شراکت دار تلاش کر رہی ہیں
مشرق وسطیٰ کی جنگ، خلیج کی کشیدگی اور خطے میں بدلتے ہوئے طاقت کے توازن نے عرب اور مسلم ممالک کو اپنے دفاع کے بارے میں نئے فیصلے کرنے پر مجبور کیا ہے
پاکستان کے لئے بھی یہ فیصلہ جذبات سے زیادہ قومی مفاد کے تناظر میں دیکھنا چاہیے اور جو لوگ اس معاہدے کو غلط سمجھتے ہیں انہیں اس کی شقوں اور پالیسی کے نتائج پر دلیل کے ساتھ بات کرنی چاہیے لیکن اگر کسی ایک ملک کے دفاعی معاہدے کو اصولاً ناجائز کہا جائے تو پھر یہی اصول دوسرے ملکوں کے معاہدوں پر بھی لاگو ہونا چاہیے
آخر میں سوال صرف اتنا ہے ہے کہ کیا ہمارے پاس خارجہ پالیسی کے لیے ایک اصول ہے، یا ہر ملک اور ہر واقعے کے لیے الگ ترازو؟
اگر اصول ایک ہے تو اسے سب پر لاگو ہونا چاہیے
اور اگر ترازو ہر بار بدلتا رہے تو پھر بحث اصول کی نہیں، دوہرے معیار کی ہے
