بھارتی کرکٹر اور دہلی کیپٹلز کے کھلاڑی ابھیشیک پورل کو کولکتہ پولیس نے ایک میڈیکل کی طالبہ کی جانب سے جنسی زیادتی سمیت دیگر سنگین الزامات کے تحت درج مقدمے میں گرفتار کرلیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے ابھیشیک پورل کو 11 اگست کو کولکتہ سے گرفتار کیا اور اسی روز انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ کرکٹر کے خلاف مقدمہ 30 جون کو درج کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے شکایت کی بنیاد پر تحقیقات شروع کیں۔
شکایت کنندہ خاتون، جو میڈیکل کی طالبہ بتائی گئی ہیں، نے الزام عائد کیا کہ ابھیشیک پورل نے ان سے شادی کا وعدہ کیا تھا۔ خاتون کے مطابق بعد میں کرکٹر نے شادی سے انکار کردیا اور ان سے دوری اختیار کرنا شروع کردی۔
خاتون نے اپنی شکایت میں یہ الزام بھی عائد کیا کہ کرکٹر نے انہیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا اور مجرمانہ دھمکیاں بھی دیں۔ پولیس نے شکایت موصول ہونے کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع کیں اور شواہد کی بنیاد پر کارروائی آگے بڑھائی۔
رپورٹ کے مطابق ابھیشیک پورل ماضی میں اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرچکے ہیں۔ مقدمے میں خاتون کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی عدالت میں حتمی طور پر تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس لیے قانونی طور پر اس مرحلے پر الزامات کو ثابت شدہ جرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ابھیشیک پورل بھارتی کرکٹ میں بنگال کی نمائندگی کرچکے ہیں اور ان کا تعلق انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم دہلی کیپٹلز سے بھی رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئی پی ایل 2026 کے اختتام کے بعد سے انہوں نے کوئی مسابقتی میچ نہیں کھیلا، جبکہ گزشتہ سیزن میں وہ دہلی کیپٹلز کی جانب سے صرف چار میچز میں میدان میں اترے تھے۔
کیس میں پولیس کی مزید تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد اور عدالتی کارروائی سے معاملے کی اصل صورتحال واضح ہونے کی توقع ہے۔
بھارتی کرکٹر ابھیشیک پورل جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار
