Baaghi TV

برطانیہ میں شدید گرمی، جنگلاتی آگ کا خطرہ برقرار، 24 گھنٹوں میں 43 آتشزدگیاں

لندن: برطانیہ میں شدید گرمی کی لہر کے بعد جنگلاتی اور دیہی علاقوں میں آتشزدگی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ فائر سروسز نے خبردار کیا ہے کہ ملک اب بھی جنگلاتی آگ کے شدید خطرے سے دوچار ہے۔

نیشنل فائر چیفس کونسل کے چیئرمین فل گاریگن کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 43 جنگلاتی آگ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ فائر اینڈ ریسکیو سروسز اب بھی جنگلاتی آگ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ویلز، ہیمپشائر اور اسٹوربرج میں تین بڑے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔فائر چیف نے کہا کہ رواں سال جنگلاتی آگ کے واقعات کی تعداد گزشتہ برس کے ریکارڈ کے قریب پہنچ چکی ہے بلکہ اگست کے آغاز ہی میں 2025 کے اعداد و شمار کو عبور کر چکی ہے، جس کے باعث رواں سال گزشتہ سال کے مقابلے میں آتشزدگی کے واقعات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

ہیرفورڈ اور وورسٹر فائر اینڈ ریسکیو کے گروپ کمانڈر ٹام مورگن نے موجودہ صورتحال کو انتہائی خشک اور آتش گیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ آگ لگنے کے واقعات میں بڑی تعداد حادثاتی انسانی سرگرمیوں سے منسلک ہے۔ان کے مطابق باغات میں کچرا جلانا، باربی کیو اور فائر پٹس کا استعمال، جبکہ شیشے کی بوتلیں یا دیگر اشیا کھلے مقامات پر چھوڑ دینا بھی آگ بھڑکنے کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ شدید خشک موسم کے دوران ایسی سرگرمیوں سے گریز کریں کیونکہ معمولی سی چنگاری بھی بڑے پیمانے پر آگ کا باعث بن سکتی ہے۔

اسٹوربرج میں جنگلاتی آگ کے نتیجے میں ایک خاندان کا گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ رچرڈ اور روز این وِنٹن کو اس مکان میں منتقل ہوئے صرف پانچ ماہ ہوئے تھے کہ تیزی سے پھیلنے والی آگ نے ان کا گھر اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ واقعے کی شدت کا اندازہ ڈور بیل کیمرے کی فوٹیج سے بھی لگایا جاسکتا ہے، جس میں آگ کو تیزی سے پھیلتے دیکھا گیا۔

انگلینڈ کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کے باعث جاری ایمبر ہیٹ ہیلتھ الرٹس بھی ختم کردیئے گئے ہیں۔ برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے الرٹس لندن، ساؤتھ ایسٹ، ساؤتھ ویسٹ، ایسٹ مڈلینڈز، ویسٹ مڈلینڈز اور ایسٹ آف انگلینڈ سمیت کئی علاقوں میں نافذ تھے۔حکام کے مطابق اب تمام علاقوں کو گرین کیٹیگری میں رکھا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ شدید گرمی کے باعث صحت اور سماجی نگہداشت کی خدمات پر نمایاں خطرہ فی الحال موجود نہیں۔شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے خطرے کے دوران لاکھوں موبائل فونز پر جاری کیے گئے ایمرجنسی الرٹ نے ویلز میں بھی تشویش پیدا کردی۔ رپورٹ کے مطابق الرٹ ابتدائی طور پر ویلش زبان میں موصول ہوا اور کئی افراد کو انگریزی ترجمہ چند منٹ بعد ملا۔ویلز میں ویلش زبان بولنے والوں کی تعداد تقریباً 17.8 فیصد بتائی گئی ہے، جس کے باعث متعدد افراد کے لیے فوری طور پر الرٹ کا مفہوم سمجھنا مشکل ہوگیا۔ بعض شہریوں نے بتایا کہ انہیں خدشہ ہوا کہ شاید کوئی دہشت گرد حملہ، مقامی ہنگامی صورتحال یا کسی بڑے خطرے کا سامنا ہے۔نارتھ ویلز پولیس کے مطابق الرٹ جاری ہونے کے بعد 999 پر موصول ہونے والی کالز کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔

ساؤتھ ویلز میں ایک پہاڑی علاقے میں مبینہ طور پر جان بوجھ کر آگ لگانے کے الزام میں 14 سالہ چار لڑکوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق پورتھ کے قریب پلیزنٹ ہائٹس کے علاقے میں لگنے والی آگ کو دانستہ قرار دیا گیا ہے۔پولیس نے بتایا کہ گرفتار نوجوانوں کو تفتیش کے دوران ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جان بوجھ کر آگ لگانے سے انسانی جانوں، آبادیوں، جنگلی حیات اور قدرتی ماحول کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اور ہنگامی اداروں کے وسائل بھی متاثر ہوتے ہیں۔صورتحال سے نمٹنے کے لیے تقریباً 100 فوجی اہلکاروں کو بھی ساؤتھ ویلز کے وسیع علاقے میں امدادی اور بحالی کی کارروائیوں میں معاونت کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

شدید گرمی، خشک سالی اور فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کے باعث برطانوی حکومت نے انگلینڈ کے کسانوں کے لیے 65 ملین پاؤنڈ امداد کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم اینڈی برنہم نے موجودہ موسم کو برطانوی زراعت کے لیے ایک نسل کا مشکل ترین موسم قرار دیتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی اور خشک سالی نے فصلوں، مویشیوں اور زرعی زمین کو متاثر کیا ہے۔حکومت کے مطابق امدادی رقم میں ماحولیاتی سرمایہ کاری، پانی کے ذخائر اور فوری طور پر مویشیوں کے لیے چراگاہوں کی دستیابی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی اپنی خوراک پیدا کرنے کی صلاحیت قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور کسانوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا اکیلے نہیں کرنے دیا جائے گا۔

برطانیہ کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ موسم خزاں میں ہونے والی بارش بھی ملک کے بیشتر حصوں خصوصاً انگلینڈ اور پورے ویلز میں جاری خشک سالی کو ختم کرنے کے لیے کافی ثابت نہ ہو سکے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کی توقع ضرور ہے تاہم اس کی مجموعی مقدار معمول سے کم رہنے کا امکان ہے۔ جولائی میں شمال مغربی انگلینڈ میں بارش معمول کے اوسط کا صرف 26 فیصد جبکہ جنوب مشرقی علاقوں میں بعض مقامات پر محض ایک فیصد تک رہی۔ ہیمپشائر، آئل آف وائٹ اور ویسٹ سسیکس کے بعض علاقوں میں 59 دن تک بارش نہیں ہوئی۔محکمہ موسمیات نے یہ بھی بتایا ہے کہ آنے والے دنوں میں موسم نسبتاً ٹھنڈا ہونے اور بحر اوقیانوس سے بارش کے امکانات بڑھنے کی توقع ہے، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ بارش خشک سالی کے مسئلے کو کس حد تک کم کرسکے گی۔

مجموعی طور پر برطانیہ میں شدید گرمی کی شدت میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے، لیکن خشک سالی اور جنگلاتی آگ کا خطرہ تاحال برقرار ہے۔ حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ کھلے مقامات پر آگ جلانے، باربی کیو، فائر پٹس اور دیگر ایسی سرگرمیوں سے گریز کریں جو خشک موسم میں معمولی چنگاری کو بھی بڑی آتشزدگی میں تبدیل کرسکتی ہیں۔

More posts