افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کو پانچ سال مکمل ہوگئے، اس عرصے کے دوران ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال اور انسانی بحران مزید سنگین ہوگیاہے-
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان حکومت میں بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق مسلسل محدود کیے جا رہے ہیں اور انہیں تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں اپنے فیصلے کرنے کی آزادی سے محروم کیا جا رہا ہے یونیسکو کے مطابق اس وقت افغانستان میں تقریباً 24 لاکھ لڑکیاں اسکولوں سے باہر ہیں۔
رپورٹ میں افغانستان کے بچوں کی غذائی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ہر 10 افغان بچوں میں سے ایک شدید غذائی قلت کا شکار ہے، جس سے ملک میں جاری انسانی بحران کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ نے افغانستان میں خواتین سے متعلق پروگراموں کو جاری رکھنے کے لیے عالمی برادری سے مالی معاونت برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ کی افغانستان میں خواتین کے لیے خصوصی نمائندہ سوزن فرگوسن نے صحافیوں سے گفتگو میں خبردار کیا کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث خواتین کے لیے کام کرنے والی 74 تنظیموں میں سے تقریباً نصف کو اپنی سرگرمیاں بند کرنا پڑ سکتی ہیں۔
سوزن فرگوسن کے مطابق افغانستان کے لیے 1.7 ارب ڈالر کی انسانی امداد کی اپیل کی گئی تھی، تاہم اب تک اس رقم کا صرف 25 فیصد ہی فراہم کیا جا سکا ہےگزشتہ سال افغانستان میں خواتین کے لیے کام کرنے والی تین چوتھائی تنظیموں کو فنڈنگ میں کمی کا سامنا کرنا پڑا، افغانستان اس وقت خواتین کے حقوق کے شدید بحران سے گزر رہا ہے، اس لیے حکومتوں اور عالمی عطیہ دہندگان کو افغان خواتین کے لیے مالی معاونت جاری رکھنی چاہیے تاکہ ان کے لیے ضروری پروگرام مکمل طور پر بند نہ ہوں۔
سوزن فرگوسن کے مطابق طالبان حکومت خواتین کے حقوق محدود کرنے والے 100 سے زائد احکامات جاری کرچکی ہے ان پابندیوں کے تحت افغان لڑکیوں کو ثانوی اسکول اور جامعات میں تعلیم حاصل کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے، جس کے باعث ملک کی خواتین اور لڑکیوں کے مستقبل کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش برقرار ہے۔
