پاکستان نے امریکی سفیر برائے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے پر امریکا سے شدید احتجاج کرتے ہوئے سخت ڈیمارش جاری کر دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور امریکی سفیر برائے بھارت سرجیو گور کے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے اور وہاں جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق دیے گئے بیان پر پاکستان کی شدید تشویش سے آگاہ کیا گیا،پاکستان نے امریکی سفیر کے بیان کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے کی سختی سے مذمت اور اسے واضح طور پر مسترد کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے امریکی فریق پر واضح کیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جس کے حتمی تصفیے کا فیصلہ متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا ہے، امریکی سفیر کا غیر ذمہ دارانہ بیان جموں و کشمیر تنازع پر امریکا کے دیرینہ اور دستاویزی مؤقف کے منافی ہے،پاکستان نے یہ بھی واضح کیا کہ مذکورہ بیان بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی سے متعلق امریکی عزم سے بھی مطابقت نہیں رکھتا،جبکہ امریکی سفیر کا حالیہ بیان امریکا کے ماضی کے دستاویزی مؤقف سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔
یہ تنازع اس لیے بھی حساس ہے کہ امریکا ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سمیت باہمی تنازعات کے پرامن حل اور مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرتا رہا ہے۔دوسری جانب حالیہ برسوں میں واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان دفاعی اور تزویراتی تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، فروری 2026 میں بھی گور اور امریکی انڈو پیسفک کمانڈ کے سربراہ نے بھارت کی ویسٹرن کمانڈ کا دورہ کیا تھا جو پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے احتجاج میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان اور بھارت کے درمیان جموں و کشمیر تنازع پر ثالثی کی پیشکش کا بھی حوالہ دیا اور اسے سراہاپاکستان نے امریکا پر زور دیا ہے کہ ایک طرف اگر واشنگٹن تنازع کے حل میں ثالثی یا سفارتی کردار ادا کرنے کی پیشکش کرتا ہے تو دوسری جانب اس کے اعلیٰ حکام کے عوامی بیانات بھی جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کے بارے میں اس سفارتی کردار سے ہم آہنگ ہونے چاہئیں،پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے کے مؤقف کو قبول نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ امریکی سفیر برائے بھارت سرجیو گور کے 19 اگست 2026 کو جموں و کشمیر کے دورے کے بعد سامنے آیا، بھارتی میڈیا کے مطابق یہ گور کا بطور امریکی سفیر جموں و کشمیر کا پہلا دورہ تھا انہوں نے سری نگر میں بھارتی زیرانتظام جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کی اور علاقے کو بھارت کا ’’اہم حصہ‘‘ قرار دیا، گور نے خطے کی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں امریکی سفری ہدایات پر نظرثانی کا بھی عندیہ دیا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان جموں و کشمیر کا تنازع 1947 سے چلا آ رہا ہے دونوں ممالک علاقے کے مختلف حصوں پر انتظام رکھتے ہیں اور دونوں کا کشمیر پر اپنا الگ مؤقف ہے پاکستان مسلسل مؤقف اختیار کرتا ہے کہ تنازع کا حتمی حل اقوام متحدہ کی متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ بھارت پورے جموں و کشمیر پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔
اگست 2019 میں بھارت نے اپنے زیرانتظام جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے بھارتی آئین کی دفعہ 370 سے متعلق خصوصی انتظام ختم کیا اور سابق ریاست کو دو وفاقی اکائیوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کیا، اس اقدام کے بعد پاکستان نے بھارت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی تنازع قرار دیا۔
