عمران خان کی صحت سے متعلق دعووں پر نئی بحث، سیاسی بیانیے پر سوالات اٹھ گئے
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے حوالے سے جاری سیاسی بیانیے پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی جانب سے ان کی صحت کے بارے میں اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے،
عمران کی بہن عظمیٰ خان نے جان کو خطرہ ہے کا بیانیہ واڑ کر رکھ دیا ہے. وہ بتا رہی ہے کہ ماشاءاللہ ماشاءاللہ فٹ ہے اور بلڈ پریشر 120/80 ہے
جب کہ انتشاری اور یوٹیومرز اور بیرون ممالک میں بیٹھے Agents of Chaos عالمی جریدوں اور میڈیا کوکہتے ہیں خان کی جان کو خطرہ ہے،اس کو دل کا مسئلہ ہے اس کو بلڈ پریشر ہے اس کی 85 فیصد بینائی چلی گئی ہے۔بانی پی ٹی آئی کی طبعیت کی خرابی اور تشویشناک حالت کی تمام خبریں محض ایک گھناونا سیاسی ڈرامہ ثابت ہوئیں، جن کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا۔ اسپتال کی میڈیکل رپورٹس، بشمول خون کے ٹیسٹ اور ایکو کارڈیوگرافی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ مکمل طور پر تندرست اور صحت مند ہیں۔ البتہ ذہنی مریض وہ شروع ہی سے ہے.
اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ علالت اور موت کے جھوٹے پروپیگنڈے کا مقصد صرف اور صرف ملک میں انتشار (Chaos) پھیلانا، سیکیورٹی کے سنگین خدشات پیدا کرنا اور عدالتِ عالیہ سے غیر آئینی ریلیف حاصل کرنا تھا۔افسوسناک امر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اور بالخصوص بانی پی ٹی آئی کی بہنوں نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے حلف نامے کی کھلی خلاف ورزی کی۔ عدالت کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ صحت کے معاملے پر کوئی سیاست نہیں کی جائے گی، لیکن اس کے باوجود اسپتالوں کے باہر ہجوم اکٹھا کر کے اور ریاست کے خلاف زہریلی پریس کانفرنسز کے ذریعے سیکیورٹی رسک پیدا کیا گیا۔ یہ پورا کھیل ثابت کرتا ہے کہ پارٹی اپنے ہی قائد کی طبی سہولیات کو سیاسی فائدہ اٹھانے اور ریاستی اداروں کے خلاف منظم مہم چلانے کے لیے استعمال کر رہی ہے، جس کے بعد اب انہیں کسی قسم کا مزید ریلیف دینا انصاف کے اصولوں کے منافی ہوگا۔
ملک میں کسی نئے این آر او یا ڈیل کی بازگشت محض پی ٹی آئی کی اپنی دیرینہ خواہش اور سیاسی ضرورت ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پی ٹی آئی قیادت مسلسل ریاستی اداروں اور حکومت پر تنقید کر کے دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ کسی نہ کسی طرح اپنے قائد کے لیے کوئی درپردہ راستہ یا این آر او حاصل کر سکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ تو موجودہ حکومت اور نہ ہی وہ دیگر حلقے جنہیں پی ٹی آئی نشانہ بناتی ہے، اس قسم کی کسی بھی غیر آئینی رعایت میں کوئی دلچسپی رکھتے ہیں۔
ریاست اور حکومت کا موقف اب بالکل واضح ہو چکا ہے کہ کسی بھی قسم کی بلیک میلنگ، دباؤ یا پسِ چلمن سودے بازی کی باتوں کو سرے سے سنا ہی نہیں جائے گا۔ این آر او کا دور اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے اور احتساب کے عمل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جھوٹے پروپیگنڈے اور این آر او کی خواہشیں پالنے کے بجائے، اب بانی پی ٹی آئی کا مستقبل صرف اور صرف عدالتوں کے قانونی فیصلوں اور قانونِ پاکستان کے تابع ہے۔
