بیجنگ: چین کے شہر ہانگژو میں کاروباری نوعیت کی ایک دعوت کے بعد خاتون پر مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے نے ملک میں کاروباری اور سرکاری حلقوں میں رائج شراب نوشی کی ثقافت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ ایک کامیاب رئیل اسٹیٹ ڈیل کے بعد منعقدہ کاروباری عشائیے سے شروع ہوا، جس میں مقامی حکام اور کاروباری شخصیات شریک تھیں۔ عشائیے کے بعد ایک کراؤکے بار میں دو افراد پر ایک خاتون کو مبینہ طور پر جنسی طور پر ہراساں اور زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا۔حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ایک اعلیٰ عہدے دار کاروباری شخصیت اور ایک سرکاری اہلکار کو مبینہ طور پر ’’زبردستی بدسلوکی‘‘ کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ واقعے میں متاثرہ خاتون زخمی بھی ہوئی اور اسے اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ دونوں ملزمان کو ان کے عہدوں سے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔
واقعے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد چینی سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ رپورٹ کے مطابق چینی پلیٹ فارم ویبو پر اس معاملے سے متعلق مواد کو کروڑوں مرتبہ دیکھا گیا، جبکہ صارفین نے کاروباری تقریبات میں خواتین کی شرکت، شراب نوشی کے دباؤ اور طاقت کے عدم توازن پر سوالات اٹھائے۔اس واقعے نے خاص طور پر چین میں رائج اس کاروباری روایت کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے جس میں کاروباری معاملات طے کرنے کے لیے طویل عشائیوں، شراب نوشی اور غیر رسمی ملاقاتوں کو اہم سمجھا جاتا ہے۔
چینی میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کے مطابق بعض کاروباری دعوتوں میں خواتین ملازمین کو اپنے اعلیٰ افسران کی دعوت قبول کرنے اور شراب نوشی میں شریک ہونے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بعض خواتین ایسی تقریبات میں شرکت سے انکار کرنے سے اس لیے گریز کرتی ہیں کہ انہیں غیر تعاون کرنے والی ملازم سمجھا جا سکتا ہے، جس سے ان کے کیریئر اور ملازمت کے مواقع متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری معاملات میں خواتین کو بعض اوقات محض ’’قربانی‘‘ یا ’’مذاکراتی مہرے‘‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
معاملے پر ہونے والی بحث میں ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ شراب نوشی کو مبینہ جنسی بدسلوکی کے پس منظر کے طور پر پیش کرنے پر سوالات اٹھائے گئے۔کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ کسی شخص کا شراب کے نشے میں ہونا جنسی ہراسانی یا زیادتی کی ذمہ داری سے اسے بری نہیں کرتا، جبکہ بعض نے خدشہ ظاہر کیا کہ کاروباری دعوتوں میں ہونے والی زیادتیوں کو شراب نوشی کی ثقافت کے پیچھے چھپا دیا جاتا ہے۔
ہانگژو کا واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چین میں سرکاری اہلکاروں اور کاروباری شخصیات کے درمیان غیر ضروری مراعات، شاہانہ دعوتوں اور بدعنوانی کے خلاف طویل عرصے سے کارروائیاں جاری ہیں۔چینی صدر شی جن پنگ کی حکومت سرکاری اداروں میں بدعنوانی، اقربا پروری اور سرکاری وسائل کے غیر ضروری استعمال کے خلاف سخت پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ سرکاری میڈیا نے بھی کاروباری دعوتوں میں حد سے زیادہ شراب نوشی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔چینی کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان اخبار پیپلز ڈیلی میں شائع ہونے والے ایک تبصرے میں کہا گیا کہ ایسے واقعات پر عوامی ردعمل کی شدت کی ایک وجہ سرکاری اہلکاروں کے طرزِ عمل، حکومت اور کاروباری اداروں کے تعلقات کی حدود اور متاثرہ افراد کے ساتھ عوام کی ہمدردی ہے۔
ہانگژو کا تازہ واقعہ چین میں کاروباری دعوت کے بعد جنسی زیادتی کے ایک بڑے مقدمے کی یاد بھی دلاتا ہے۔2021 میں ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کی ایک خاتون ملازم نے الزام عائد کیا تھا کہ ایک کاروباری عشائیے کے بعد اس کے باس اور ایک کلائنٹ نے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔اس مقدمے میں کلائنٹ کو 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم شکایت کرنے والی خاتون کو بعد میں کمپنی سے برطرف کر دیا گیا۔ اس کے مینیجر کے خلاف مقدمہ عدالت نے خارج کر دیا تھا، اگرچہ اسے بھی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔
چین نے حالیہ برسوں میں کام کی جگہ پر خواتین کو جنسی ہراسانی سے تحفظ دینے کے لیے قانونی اقدامات بھی کیے ہیں۔ 2023 میں نافذ کیے گئے نئے قواعد کے تحت اداروں پر جنسی ہراسانی کی روک تھام کے لیے مخصوص اقدامات کی ذمہ داری عائد کی گئی۔اس سے قبل 2021 میں سول کوڈ میں کی گئی ترامیم کے ذریعے بھی متاثرہ افراد کو مبینہ جنسی ہراسانی کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی دعویٰ دائر کرنے کا راستہ فراہم کیا گیا تھا۔تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ چین میں جنسی ہراسانی سے متعلق قوانین ابھی بھی محدود پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں اور ایسے مقدمات عدالتوں تک کم ہی پہنچتے ہیں۔
چین میں جنسی ہراسانی کے خلاف #MeToo تحریک بھی سامنے آ چکی ہے، تاہم ماضی میں حکام کی جانب سے ایسی سرگرمیوں اور جنسی ہراسانی کے خلاف فعال مہمات کو محدود کیے جانے پر تنقید ہوتی رہی ہے۔خواتین کی جانب سے سامنے آنے والے بعض ہائی پروفائل مقدمات نے ملک میں کام کی جگہ پر طاقت کے عدم توازن اور خواتین کو درپیش مشکلات کو اجاگر کیا، تاہم شکایت کنندگان کو بعض اوقات سماجی دباؤ، ملازمت سے محرومی اور آن لائن سنسرشپ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
تازہ واقعے کے بعد ہانگژو کے حکام نے تحقیقات جاری رکھنے اور معاملے سے سختی سے نمٹنے کا اعلان کیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق کسی بھی قسم کی نرمی کے بغیر ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب متعدد کمپنیوں نے بھی معاملے کے تناظر میں اپنے داخلی احتساب کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
