جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نئے صوبے صرف ایک ادارے اور ایک ادارے کے سربراہ کی خواہش ہے اور وہ جبراً قوم پر مسلط کررہا ہے۔ فاٹا انضمام کے پیچھے بھی امریکا تھا تو میں کیسے کہہ سکتا ہوں کہ آج نئے صوبوں اور ملک میں افراتفری کے پیچھے بیرونی دباؤ نہیں ہو گا،
مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان دوہرے رویئے کا عکاس ہے، مولانا فضل الرحمان وہ مچھلی ہیں جو اقتدار کے لئے ہمیشہ تڑپتی رہتی ہیں، آج مولانا امام ہیں تو پی ٹی آئی پیچھے ہیں، کچھ برس پہلے کا منظر دیکھیں تو پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں مولانا کی صف میں مریم ،شہبازاور بلاول نظر آ رہے تھے،مولانا فضل الرحمان ابھی اپوزیشن میں ہیں انہیں نہ ہی کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ ملی نہ ہی کوئی وزارت،تو ایسے میں تڑپنا تو بنتا ہے، کبھی نو مئی کے کرداروں کے ساتھ ،تو کبھی کسی اور کے ساتھ سٹیج پر اداروں کے خلاف بیان بازی مولانا فضل الرحمان کی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے
نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت اور مولانا کی جانب سے امریکہ کو ذمہ دار قراردینے کی کوشش ایک الزام کے سوا کچھ بھی نہیں،پاکستان کی آبادی بڑھ چکی ایسے میں صوبے بڑھ جائیں تو انتظامی امور بہتر ہو سکتے ہیں لیکن مولانا کو تو کرسی چاہئے اور اگر وہ کرسی امریکہ بھی دلوا دے تو انہیں قبول ہے،اور اس ضمن میں مولانا فضل الرحمان کوشش بھی کر چکے ہیں،اس ضمن میں وکی لیکس نے بھی مولانا فضل الرحمان کی امریکہ کے سامنے وزیراعظم کی کوششوں کے لئے کی جانے والی منتوں کو بےنقاب کیا تھا،

وکی لیکس کی جانب سے جاری کردہ ایک سفارتی مراسلے کے مطابق امریکی سفیر نے 20 نومبر 2007 کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، جس میں آئندہ انتخابات اور ملک کی سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔مراسلے کے مطابق امریکی سفیر نے کہا کہ امریکا ایمرجنسی کے خاتمے اور آزاد و منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت آزاد اور منصفانہ انتخابات کی حمایت کرتی ہے، تاہم جے یو آئی (ف) انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی۔مراسلے کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے امریکی حمایت حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ وزیراعظم بنے تو واشنگٹن پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بے نظیر بھٹو کو قبل از وقت وزیراعظم نہ سمجھے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مذہبی رہنماؤں سے متعلق بیانات کے باعث وہ ابھی فیصلہ نہیں کر سکے کہ آیا وہ دوبارہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کام کر سکتے ہیں یا نہیں۔مراسلے کے مطابق وہ آئندہ انتخابات میں ممکنہ طور پر فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے امکان سے پُرامید دکھائی دیے۔وکی لیکس کے مطابق مولانا فضل الرحمان اس بات پر خوش ہوئے کہ امریکی حکومت طالبان کے بعض ارکان اور القاعدہ کے رہنماؤں کے درمیان فرق کرنے پر آمادہ ہے۔ملاقات میں مولانا عبدالغفور حیدری، سینیٹر طلحہ محمود، سینیٹر اعظم سواتی اور ملک سکندر خان بھی شریک تھے۔ مراسلے کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے مترجم کے ذریعے گفتگو کی، تاہم وہ انگریزی میں کی جانے والی گفتگو کا بڑا حصہ واضح طور پر سمجھ رہے تھے۔مراسلے میں یہ بھی درج ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے بعد میں انتخابی کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور جماعت اسلامی سے اختلاف کیا، جو اس وقت تک انتخابات کے بائیکاٹ کے مؤقف پر قائم تھی۔
وکی لیکس کی جانب سے انکشاف سے واضح ہوتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنی روش نہیں بدلی اور وہ آج بھی اقتدار میں آنے کے لئے امریکی غلامی میں جانے کو تیار ہیں بشرطیکہ کرسی ملے وہ بھی وزیراعظم کی، کیونکہ اپوزیشن میں دل نہیں لگ رہا.مولانا فضل الرحمان تو اس وقت بیٹے کو وزارت ملنے،خیبر پختونخوا حکومت کا حصہ بننے کی بھی کوشش کر رہے ہیں،ٹھیکے بھی ان کو ملنے چاہئے تا کہ ان کا "کام ” چلتا رہے ورنہ الزام ترشی کا سلسلہ رکے گا نہیں.
