Baaghi TV

ربیع الاول ، محبت کا وہ رخ جو ہمیں اپنے اندر دیکھنا ہے،تحریر: زینب جہانزیب

کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ محبت آخر کتنی عجیب چیز ہے۔ ہم جس سے محبت کرتے ہیں، اُس کے قریب ہونے کی خواہش رکھتے ہیں، اُس کا ذکر سن کر دل نرم پڑ جاتا ہے، اُس کی باتیں سننا اچھا لگتا ہے۔ مگر کیا محبت صرف اُس ہستی کا ذکر سن کر دل کی کیفیت بدل جانے کا نام ہے؟ یا محبت اُس وقت مکمل ہوتی ہے جب وہ ہمارے اندر بھی کوئی تبدیلی پیدا کرنے لگے؟

ربیع الاول آتا ہے تو دل میں حضور اکرم ﷺ کی محبت کا ایک الگ ہی احساس جاگتا ہے۔ درود کی خوشبو، سیرت کے تذکرے اور اُس پاکیزہ نسبت کا خیال دل کو ایک عجیب سکون دیتا ہے۔ لیکن اسی کیفیت کے درمیان میرے اندر ایک سوال اٹھتا ہے: ہم حضور ﷺ سے محبت کرتے ہیں، مگر کیا کبھی یہ سوچا کہ ہماری محبت نے ہمیں خود ہمارے لیے کتنا بہتر انسان بنایا؟

کیونکہ کسی سے محبت کرنا شاید آسان ہے، مگر اُس محبت کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا بہت مشکل۔
ہم کسی کے لیے دل میں بے حد عقیدت رکھ سکتے ہیں، مگر اپنے غصے پر قابو پانا پھر بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ ہم رحمت کی بات سن کر متاثر ہو سکتے ہیں، مگر اُس شخص کے ساتھ نرمی کرنا مشکل لگ سکتا ہے جس نے ہمیں تکلیف دی ہو۔ ہم معافی کی خوبصورتی کو سمجھ سکتے ہیں، مگر اپنی انا کو ایک قدم پیچھے کرنا شاید سب سے مشکل کام ہو۔
یہیں کہیں محبت ہمیں ایک آئینہ دکھاتی ہے۔
اور آئینہ ہمیشہ خوبصورت منظر نہیں دکھاتا۔
کبھی وہ ہمیں ہماری اپنی سختی دکھاتا ہے، کبھی ہماری جلد بازی، کبھی ہماری انا، کبھی وہ الفاظ جو ہم نے کسی کے دل پر بے دھیانی میں رکھ دیے تھے۔ ہم دوسروں کے رویوں کو بہت غور سے دیکھتے ہیں، مگر اپنے رویے کا حساب اکثر اتنی باریکی سے نہیں کرتے۔
شاید سیرتِ رسول ﷺ کا ایک خوبصورت پہلو یہی ہے کہ وہ ہمیں دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنے اندر جھانکنے کا ہنر سکھاتی ہے۔
ہم اکثر سوچتے ہیں کہ دنیا میں نرمی کیوں نہیں، لوگ ایک دوسرے کو سمجھتے کیوں نہیں، رشتوں میں سکون کیوں نہیں۔ لیکن کبھی کبھی سوال کا رخ باہر سے اندر کی طرف موڑنے کی ضرورت ہوتی ہے: میں خود کسی کے لیے کتنا سکون ہوں؟ میری موجودگی کسی تھکے ہوئے انسان کے لیے آسانی ہے یا مزید بوجھ؟ میری زبان کسی کے دل کو جوڑتی ہے یا توڑ دیتی ہے؟ میرے قریب رہنے والا شخص میرے ساتھ خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے یا ہر وقت محتاط؟
یہ سوال شاید بہت چھوٹے لگیں، مگر انسان کی اصل تربیت انہی چھوٹی جگہوں پر ہوتی ہے۔
محبتِ رسول ﷺ صرف بڑے بڑے دعووں میں نہیں، شاید اُن معمولی لمحوں میں بھی اپنا رنگ دکھاتی ہے جہاں کوئی ہمیں دیکھ نہیں رہا ہوتا۔ جب ہمارے پاس جواب دینے کے لیے سخت الفاظ موجود ہوں اور ہم خاموشی اختیار کر لیں۔ جب ہم بدلہ لے سکتے ہوں مگر درگزر کو ترجیح دیں۔ جب کسی کی کمزوری ہمارے علم میں ہو اور ہم اسے اُس کے خلاف استعمال نہ کریں۔ جب ہمیں کسی کے لیے آسانی پیدا کرنے کا موقع ملے اور ہم اسے معمولی سمجھ کر گزر نہ جائیں۔

شاید محبت کی سب سے خوبصورت شکل یہی ہے کہ وہ انسان کو آہستہ آہستہ اپنے نفس سے بڑا کر دے۔
اور یہ تبدیلی ایک دن میں نہیں آتی۔ یہ خاموشی سے آتی ہے۔ کبھی ایک رویے میں، کبھی ایک معافی میں، کبھی ایک نرم جملے میں، کبھی کسی کے دکھ کو سمجھ لینے میں۔ انسان شاید خود بھی محسوس نہیں کرتا کہ اُس کے اندر کچھ بدل رہا ہے، مگر ایک دن اُسے اندازہ ہوتا ہے کہ جو بات پہلے اُسے فوراً غصہ دلا دیتی تھی، اب وہ اُسے روک کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
شاید یہی محبت کا اثر ہے۔
وہ ہمیں صرف کسی محبوب ہستی کے قریب نہیں کرتی، بلکہ اُس ہستی کی پسندیدہ صفات کے قریب بھی لے جانے لگتی ہے۔
اور شاید اسی لیے ربیع الاول میں سب سے خوبصورت سوال یہ نہیں کہ ہم نے محبت کا اظہار کتنا کیا؟
بلکہ یہ ہے:
ہماری محبت نے ہمارے اندر کتنا سکون، کتنی رحمت، کتنی نرمی اور کتنی انسانیت پیدا کی؟
کیونکہ شاید محبت کی اصل گہرائی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں لفظ ختم ہوتے ہیں اور کردار بولنا شروع کرتا ہے۔

More posts