Baaghi TV

سانحہ پمز: وفاقی وزیرِ صحت کڑے سوالات پر نیوز کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

اسلام آباد کے سب سے بڑے اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے المناک سانحے کے بعد وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ شدت اختیار کرگیا ہے۔ پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے واقعے کو سنگین غفلت اور بدانتظامی قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور استعفوں کا مطالبہ کیا ہے۔

پمز اسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں بدھ کی صبح لگنے والی آگ نے کئی نومولود بچوں کی جان لے لی۔ حکام کے مطابق صبح تقریباً 7 بجے تیسرے فلور پر واقع نرسری میں آگ بھڑکی جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے وارڈ میں پھیل گئی۔ پمز انتظامیہ کے مطابق واقعے کے وقت نرسری میں 15 نومولود بچے موجود تھے، جبکہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔

سانحے کی وجوہات کے حوالے سے سی ڈی اے، پمز انتظامیہ اور وفاقی وزیر صحت کے بیانات میں بھی واضح فرق سامنے آیا ہے، جس کے باعث واقعے کی اصل وجہ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں۔ بچوں کے اہل خانہ، سیاسی جماعتوں اور شہریوں کی جانب سے بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔

متاثرہ وارڈ کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے واقعے کو انتہائی دلخراش سانحہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہیں اور جس کسی سے بھی غفلت ہوئی، اسے کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داری پوری نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

صحافیوں کی جانب سے استعفے سے متعلق سوال پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ جتنا بتا سکتے تھے، بتا چکے ہیں اور اگر انہیں تمام باتیں بتانے کی اجازت ہوتی تو وہ مزید وضاحت کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان ان کے باس ہیں اور وہ وزیراعظم کی جانب سے دی جانے والی ہدایات کے مطابق ہی بات کرسکتے ہیں۔

وفاقی وزیر صحت نے آگ لگنے کی وجہ ایئرکنڈیشن کے کمپریسر میں پیدا ہونے والی خرابی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ صبح 6 بج کر 38 منٹ پر ایئرکنڈیشن میں اسپارک ہونے کا واقعہ پیش آیا اور اس حوالے سے فوٹیج بھی موجود ہے۔

نیوز کانفرنس کے دوران صحافیوں نے وفاقی وزیر سے وزارت صحت کی کارکردگی، حفاظتی انتظامات اور سانحے کی ذمہ داری سے متعلق سخت سوالات کیے۔ بچوں کے غمزدہ اہل خانہ کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا، جس کے بعد مصطفیٰ کمال نیوز کانفرنس ادھوری چھوڑ کر چلے گئے۔

وزارت صحت کی کارکردگی کے حوالے سے سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ جب پمز اسپتال قائم کیا گیا تھا تو اسلام آباد کی آبادی تقریباً 3 لاکھ تھی، جو اب بڑھ کر 35 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

دوسری جانب سی ڈی اے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ نے پمز اسپتال میں آگ سے نمٹنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات کو ناکافی قرار دیا ہے۔ سی ڈی اے فائر بریگیڈ کی رپورٹ کے مطابق صبح 6 بج کر 55 منٹ پر پمز میں آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی اور پہلی فائر بریگیڈ گاڑی تقریباً 6 منٹ میں موقع پر پہنچ گئی، تاہم ریسکیو کارروائی کے دوران امدادی ٹیموں کو متعدد رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ریسکیو آپریشن کے دوران امدادی اہلکاروں کی جانب سے اسپتال کی راہداریوں میں لگی جالیاں اور کھڑکیوں کے شیشے توڑ کر بچوں کو باہر نکالنے کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، جس نے اسپتال کے ہنگامی انتظامات سے متعلق مزید سوالات پیدا کردیے ہیں۔

ابتدائی رپورٹ میں آگ لگنے کی وجہ نرسری میں موجود ایک انکیوبیٹر کے ساتھ منسلک آکسیجن کی مقدار جانچنے والے نیبولائزر کے پھٹنے کو قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کے دوران دھواں پائپ کے ذریعے نومولود بچوں کے پھیپھڑوں تک پہنچا، جبکہ آکسیجن کی بندش کو بھی بچوں کی اموات کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

تاہم پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپتال میں مناسب فائر سیفٹی سسٹم موجود تھا اور عملے نے بچوں کو بچانے کے لیے اپنی پوری کوشش کی۔ ان کے بیان اور ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے درمیان فرق بھی تحقیقات کے دائرہ کار کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔

وفاقی وزیر صحت کی جانب سے ایئرکنڈیشن کے کمپریسر کو آگ لگنے کی وجہ قرار دیے جانے پر اسپتال میں موجود متاثرہ خاندانوں نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ اہل خانہ کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں، تمام ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں کسی بھی بااثر شخص کو رعایت نہ دی جائے۔

More posts