Baaghi TV

پمز ہسپتال کی نرسری میں جلتے خواب، بجھتی سانسیں،تحریر: زینب جہانزیب

کبھی کبھی کوئی خبر صرف خبر نہیں ہوتی، وہ انسان کے اندر ایک ایسا زخم کھول دیتی ہے جس پر الفاظ بھی مرہم رکھنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔ PIMS ہسپتال کی نرسری میں لگنے والی آگ کی خبر بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ چند لمحوں کی وہ آگ، جس نے صرف ایک کمرے کو نہیں جلایا، بلکہ کئی ماؤں کی گود، کئی باپوں کے خواب اور کئی گھروں کی وہ خوشیاں جلا ڈالیں جنہیں ابھی دنیا کی روشنی دیکھنا تھی۔
وہ بچے جنہوں نے ابھی زندگی کا مطلب بھی نہیں جانا تھا، جن کی آنکھیں ابھی پوری طرح دنیا سے آشنا نہیں ہوئی تھیں، جن کے ننھے ہاتھ شاید ابھی ماں کی انگلی مضبوطی سے تھامنا بھی نہیں سیکھ پائے تھے، وہ آگ کی لپیٹ میں آگئے۔ سوچ کر ہی دل کانپ جاتا ہے کہ جن بچوں کے لیے ماں اپنے سینے سے لگا کر دعائیں پڑھتی ہے، جن کے ایک سانس لینے پر گھر والے شکر ادا کرتے ہیں، وہی ننھی سانسیں دھوئیں اور شعلوں کے بیچ رک گئی ہوں گی۔

ایک ماں کے لیے اس سے بڑا المیہ کیا ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو دنیا میں لانے کے بعد اسے اپنی بانہوں میں لینے سے پہلے ہی کھو دے؟ جس بچے کے لیے اس نے مہینوں تک اپنے وجود میں تکلیف برداشت کی، جس کے آنے کی خبر پر گھر میں امید کے چراغ روشن ہوئے، جس کے لیے شاید ایک چھوٹا سا لباس سنبھال کر رکھا گیا ہو، اس بچے کی قبر کا تصور بھی کسی ماں کے دل کو اندر سے توڑ دینے کے لیے کافی ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ بچے فرشتے ہوتے ہیں۔ شاید اسی لیے ان کے جانے کا دکھ بھی زمین کے دکھوں سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ کسی سے نفرت نہیں کرتے، کسی کا حق نہیں مارتے، کسی کے خلاف سازش نہیں کرتے، کسی کو تکلیف دینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ وہ تو بس زندگی کے دروازے پر کھڑے معصوم وجود ہوتے ہیں۔ مگر اس دنیا میں کبھی کبھی سب سے زیادہ بے گناہ ہی سب سے زیادہ بے رحم حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں۔

یہ سوال صرف یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ ننھے وجود محفوظ کیوں نہ رہے؟ ہسپتال، جہاں انسان اپنے سب سے کمزور وقت میں زندگی کی حفاظت کی امید لے کر آتا ہے، اگر وہیں زندگی غیر محفوظ ہوجائے تو پھر عام انسان کس دروازے پر دستک دے؟
حادثات کبھی بتا کر نہیں آتے، مگر حادثات سے بچاؤ کے انتظامات ضرور کیے جاسکتے ہیں۔ نرسری میں موجود ہر بچہ کسی ایک خاندان کا نہیں، ایک پوری امید کا نمائندہ ہوتا ہے۔ ان کی حفاظت محض ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک انسانی امانت ہے۔ ایک ننھی جان کی قیمت کسی فائل، کسی رپورٹ، کسی وضاحت یا کسی انکوائری سے پوری نہیں ہوسکتی۔

اور آج ان بچوں کی مائیں شاید کسی جواب کی تلاش میں نہیں بلکہ اپنے بچوں کی آخری تصویر تلاش کر رہی ہوں گی۔ شاید کسی کپڑے کو سینے سے لگا کر رو رہی ہوں گی۔ شاید کسی نے ابھی تک یقین ہی نہ کیا ہو کہ جس بچے کے لیے دعائیں مانگی تھیں، وہ دعا قبول ہونے سے پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔
کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جن کے سامنے انسان صرف خاموش رہ سکتا ہے۔
آج ان ننھی جانوں کے لیے الفاظ لکھتے ہوئے قلم بھی بوجھل ہے۔ دل چاہتا ہے کہ بس اتنا کہا جائے کہ اے اللہ! ان معصوم بچوں کو اپنی رحمت کی آغوش میں جگہ دے، ان کے والدین کو وہ صبر عطا کر جس کا تصور بھی ہمارے لیے ممکن نہیں، اور ہمارے ہسپتالوں کو ایسی غفلت، ایسی کمزوری اور ایسے حادثات سے محفوظ فرما۔
کیونکہ بچے صرف پیدا نہیں ہوتے، وہ اپنے ساتھ کئی لوگوں کی پوری دنیا لے کر آتے ہیں۔
اور جب ایک بچہ چلا جاتا ہے تو صرف ایک سانس ختم نہیں ہوتی۔۔۔
کئی دلوں کی دھڑکن ہمیشہ کے لیے بدل جاتی ہے۔

More posts